فیکٹ چیک! کیا شفا اسپتال میں مردہ شخص کو داخل کرکے لاکھوں روپے وصول کیے گئے؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایک مریض کی پمز اسپتال میں موت واقع ہو چکی تھی جس کے بعد اسے شفا اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں مردہ شخص کو داخل کر لیا گیا اور 7 دنوں تک روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے رہے۔
وی نیوز نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا ایسا ہوا ہے کہ شفا ہسپتال ایک مردہ شخص سے لاکھوں روپے وصول کرتے رہا؟ اصل معاملہ ہے کیا؟
یہ بھی پڑھیے اسپتال میں مبینہ غفلت سے 6 سالہ زونیشہ کی موت، والدین انصاف کے خواہاں
سینیئر تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کے مطابق قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں معاملے کا جائزہ لینے کے لیے شفا اسپتال کے نمائندوں کو طلب کیا گیا تھا، رکن اسمبلی زہرا فاطمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کے گھریلو ملازم کے والد کو دل کا عارضہ لاحق ہوا جس کے علاج کے لیے وہ اسپتال لے گئے تھے۔ اسپتال والوں نے لواحقین کو بتایا کہ آپ کے مریض کا دل چل رہا ہے لیکن اس کا دماغ مردہ ہو چکا ہے۔ اس موقع پر کسی نے مشورہ دیا کہ اپ مریض کو شفا اسپتال منتقل کر دیں، ہو سکتا ہے کہ بچ جائے ، نتیجتاً انہوں نے ’مریض‘ کو شفا اسپتال منتقل کر دیا۔
زہرا فاطمہ کے مطابق جس وقت اس شخص کو شفا اسپتال لایا گیا تو اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ ایسا مریض، جس کا دماغ مردہ ہوچکا ہو اور دل چل رہا ہو، اس کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اسپتال کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ اس شخص کا دماغ مردہ ہو چکا ہے، اس لیے اس کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے میو اسپتال میں انجیکشن کے ری ایکشن کے باعث ہلاکتوں کا معاملہ، انسانی غلطی کا انکشاف
زہرا فاطمہ کے مطابق 7 دنوں کے بعد جب میں شفا اسپتال آئی تو میں نے اپنے ملازم سے کہا کہ اپنے مریض کو وینٹی لیٹر سے ہٹوا دیں، جس کے بعد اس مریض کے موت ڈکلیئر کر دی گئی۔
سینیئر صحافی عمر چیمہ کے مطابق اسی کمیٹی اجلاس میں شفا اسپتال کی انتظامیہ سے پوچھا گیا کہ کیا شفا اسپتال کو ٹیکس چھوٹ حاصل ہے جس پر بتایا گیا کہ شفا اسپتال نے گزشتہ مالی سال میں 3 ارب روپے کا ٹیکس ادا کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شفا اسپتال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شفا اسپتال شفا اسپتال اسپتال میں کے مطابق
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔