پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی ای سی ایل سے نام نکالنے کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس صاحبزداہ اسداللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی۔

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے استفسار  کیا کہ نیب کا جواب آیا ہے؟ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب محمد علی نے کہا کہ  جی ہم نے جواب جمع کیا ہے۔

وکیل درخواست گزار  نے کہا کہ اعظم سواتی کو ائیرپورٹ پر بیرونی ملک جانے سے روک دیا گیا، کہا گیا کہ اعظم سواتی کے خلاف نیب میں انکوائری چل رہی ہے اس وجہ سے باہر نہیں جاسکتے۔

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ  نے کہا کہ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب صاحب یہ بتائے ایسا کیا نکلا کہ ان کو باہر جانے نہیں دیا، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب  نے جواب دیا کہ ملک کا سب سے بڑا سکینڈل نکل آیا ہے، اربوں روپے کرپشن ہوئی ہے۔

جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ  نے کہا کہ  ایان علی کیس میں ٹرائل  عدالت میں ٹرائل چل رہا تھا، یہاں پر انکوائری ہے، پراسیکیوٹر جنرل نیب  نے کہا کہ ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر ہے، لیکن ایسا ایسا نہیں ہے،  8 اپریل کو یہ سکینڈل سامنے آیا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پراسیکیوٹر جنرل نیب اعظم سواتی نے کہا کہ

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس