Jasarat News:
2026-07-24@13:21:52 GMT

کراچی والوں کے ادھورے خواب، منہدم گھر

اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT

کراچی والوں کے ادھورے خواب، منہدم گھر

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

کبھی کسی نے کہا تھا کہ اگر کوئی جانے نہ جانے، تو گل ہی نہ جانے۔ مگر ہمارے کراچی کی قسمت میں شاید زرداری جیسے ’’گل‘‘ ہی ہیں

نہ جاننے والے، نہ سننے والے، نہ بدلنے والے۔ یوں کہنا بجا ہوگا: پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے؍ جانے نہ جانے زرداری نہ جانے، شہر تو سارا جانے ہے۔ کراچی وہ شہر جو پاکستان کی شہ رگ ہے، آج بے بسی، بدحالی اور بدنامی کا استعارہ بن چکا ہے۔ گزشتہ دنوں لیاری میں ایک اور عمارت زمین بوس ہوئی ایک اور قیامت صغریٰ برپا ہوئی، جہاں کئی زندگیاں ملبے تلے دب گئیں، کئی خوابوں نے اینٹوں کے نیچے آخری سانس لی اور کئی خاندان چھت کی آس سے محروم ہو گئے۔ اور المیہ تو یہ ہے کہ یہ پہلا سانحہ نہ تھا، اور حالات یہی رہے تو نہ ہی لگتا ہے کہ آخری ہوگا۔ مگر سوال کہ قصوروار کون ہے؟ کیا یہ صرف بدانتظامی ہے؟ یا کسی منظم بربادی کا منصوبہ؟ یہ سب کچھ انہی ہاتھوں سے ہو رہا ہے جنہوں نے پچھلے سترہ برسوں میں حکمرانی کے بجائے بدعنوانی کا باقاعدہ فلسفہ مسلط کیا۔ یہاں اقتدار کو خدمت کے بجائے ایک تجارتی ٹھیکے میں بدل دیا جسے ہر بار نئے نرخوں پر بیچا جاتا ہے اور قیمت چکاتا ہے کراچی کا عام شہری، اپنی جان، اپنا گھر، اور اپنے خواب دے کر۔ سندھ کے یہ حکمران جو ہر سانحے کے بعد ایک نیا وعدہ، ایک نئی کمیٹی، اور ایک رسمی تعزیتی بیان لے کر آتے ہیں وہ صرف ناکام نہیں، بلکہ نااہلی کی وہ بلند ترین مثال ہیں جو خود اپنے قائم کردہ ریکارڈز کو ہر سانحے میں توڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کا کمال یہ ہے کہ نہ کوئی ثبوت بچتا ہے، نہ کوئی مجرم کٹہرے تک پہنچتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ظلم نے وردی پہن لی ہو اور ناانصافی نے قانون کا لباس اوڑھ کر عدل کو یتیم کر دیا ہو۔

اب یہ سب فقط کتابی باتیں نہیں رہیں ہم نے خود اس اندھیر نگری کا تجربہ کیا، جب کچھ دن پہلے ایک فلیٹ خریدنے کا ارادہ کیا۔ ائرپورٹ کے سامنے ایک پلازہ دل کو بھا گیا۔ قیمت طے ہوئی، ارادہ پختہ ہوا، مگر چونکہ ہم قانون کی باریکیوں سے ناآشنا تھے، اس لیے اپنے دوست، برادر زبیر منصوری کو ساتھ لیا۔ وہاں جا کر انہوں نے صرف ایک سوال پوچھا: ’’اس کی لیز ڈیڈ کہاں ہے؟‘‘ جواب آیا: ’’کہ یہ تعمیر ہونے کے بیس سال بعد پہلی مرتبہ ٹرانسفر ہو رہا ہے، اس لیے آپ کو الاٹمنٹ خود کروانی ہو گی‘‘۔ ہم نے تحقیق کی تو حقیقت بے نقاب ہونے لگی۔ ائرپورٹ کے سامنے اور شارع فیصل کی بلند و بالا عمارتیں نہ صرف غیر قانونی بلکہ بیش تر نالوں اور ریلوے کی زمین پر تعمیر کی گئی تھیں۔ ایک عمارت تو شمسی سوسائٹی جانے والے راستے کو اس قدر تنگ کر چکی ہے جس کے باعث ریلوے پھاٹک پر ہر روز اک قیامت خیز ہجوم ہوتا ہے۔ یہاں شاطر تاجر اور بدعنوان ’’کے بی سی اے‘‘ کے اہلکار مل کر وہ کچھ کر چکے ہیں جس پر تاریخ بھی شرمندہ ہوگی کہ پارکوں کی زمینوں پرکنکریٹ کے قبرستان اگا دیے گئے ہیں۔

یہ شہر صرف بسوں، بلڈنگز اور بینرز سے نہیں بھرا، یہ شہر اب حکمرانوں کے گناہ کی گواہی دیتا ہے ہر دیوار، ہر ستون، ہر اینٹ… بس چیخ رہی ہے کہ: یہاں قانون بک چکا ہے، یہاں انصاف نیلام ہو چکا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ جن عمارتوں کو قانونی کہا گیا، جن فلیٹوں کے مکینوں نے بھاری رقوم دے کر کاغذات کے انباروں میں سکون تلاش کیا ان پر بھی ظلم کی وہ سیاہ چھاؤں پڑی جس نے نہ صرف ان کے پارکوں کے آنگن چھینے بلکہ ان کے مسجدوں کے پلاٹس تک نگل لیے۔ جس عمارت کا میں ذکر کررہا ہوں اس میں پارک کی جگہ عمارت ایک اور پلازہ کھڑا کردیا اور مسجد کے پلاٹ کو بھی محدود کر کے ایک کونے میں قید کر دیا گیا ہے۔ ان مکینوں کی قسمت میں اب نہ سایہ ہے، نہ سانس نہ آکسیجن بھری ہوا۔

ہمارا شہر اب بدقسمتی کی جیتی جاگتی تصویر ہے اور نظام ویسا ہی بے حس، ویسا ہی جامد ہے۔ لیاری سانحہ پر جنہیں گرفتار ہونا چاہیے تھا، وہ فائلوں کی اوٹ میں چھپے بیٹھے ہیں۔ جنہیں استعفا دینا چاہیے تھا، وہ میڈیا پر ’’تحقیقات‘‘ کا ناٹک کھیل رہے ہیں۔ چند افسر، رسمی طور پر معطل کیے گئے، مگر جانتے ہیں نا؟ یہاں معطلی اکثر ایک آرام دہ وقفہ ہوتی ہے جس کے بعد بحالی کا پروانہ سرکاری لفافے میں خوشبو لگا کر بھیجا جاتا ہے۔ بھٹو کو زندہ رکھتے رکھتے پیپلز پارٹی نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے سیاسی قلعے کو کھنڈر بنادیا ہے۔ یہاں ٹھیلے والے سے لے کر ٹرک ڈرائیور تک، رکشے سے لے کر اسکوٹر تک، ہر اک سے ’’حصہ‘‘ لیا جاتا ہے جو سیدھا بلاول ہاؤس کی دیگ میں جا گرتا ہے۔ پھر اس تماشے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ کہ جنہوں نے اس راکشس کو جنم دیا یعنی ریاست کی وہ مقدس مخلوق، جنہیں ہم ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کہہ کر تقدیس دیتے ہیں وہ سب جانتے ہوئے بھی چپ کا روزہ رکھے بیٹھے ہیں۔

کراچی پر دھاندلی زدہ سرکار مسلط کرنے والے بھی لگتا ہے کہ تماش بین بن کر شہریوں کی بے بسی کا تمسخر اڑا رہے ہیں اور خوشی خوشی اپنی ’’نامزد جمہوریت‘‘ کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ ہماری پیاری اسٹیبلشمنٹ جو خود کو ’’ریاست کی ریڑھ کی ہڈی‘‘ کہتی ہے، آج ووٹ چراتی ہے، بکسے بدلتی ہے، ٹھپے لگاتی ہے، اور پھر ٹی وی پر آکر ’’جمہوریت زندہ باد‘‘ کا ترانہ گاتی ہے۔

تو چلیے، آئیے! ہم اپنی آرزوئیں دفنائیں، اپنے خواب دفنائیں، اپنی چھتیں دفنائیں… اور پھر اگلے سانحے کا صبر سے انتظار کریں چونکہ ہم نے بغاوت ترک کر دی ہے، ہم صرف نوحے لکھتے ہیں، صرف آنسو بہاتے ہیں، صرف امید کے کتبے سجاتے ہیں۔ مگر سنا ہے کہ ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ جب یہ لاوا اْبلے گا تو نہ ٹینکر بچے گا، نہ ٹاور، نہ تخت، نہ تاج، نہ وہ جو سمجھتے ہیں کہ ان کی دیواریں فولاد کی ہیں۔ کیونکہ ماضی گواہ ہے اور مستقبل پر امید۔ باغ کا ہر پتا، ہر بوٹا جانتا ہے…

’’اک دن بغاوت آئے گی،
تمہارے تخت ہلائے گی
جن سروں پہ تم نے پاؤں رکھے
وہی خلقت تمہیں جھکائے گی!‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جاتا ہے جانے ہے

پڑھیں:

ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟

ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟

برج حمل ، سیارہ مریخ، 21 مارچ سے 20 اپریل
آپ کو آج اپنے معاملے میں بہتری لانے کےلئے کچھ فیصلے تو کرنے ہوںگے اور کوشش کرنی ہے کہ اب جو بھی فیصلہ ہو اس پر قائم رہیں کسی طرح بھی اب واپسی نہ کریں تو بہتر ہے۔

برج ثور، سیارہ زہرہ، 21 اپریل سے 20 مئی
آپ ایک بڑی اچھی تبدیلی کی زد میں ہیں اور لوگ اسی کوشش میں رہتے ہیں مگر آپکے نصیب میںجو ایسا ہو رہا ہے اب پوری ایمانداری سے اسے حاصل کر لیں تو بہتر ہے۔

برج جوزہ، سیارہ عطارد، 21 مئی سے 20 جون
صورتحال آج آپ کے حق میں جا رہی ہے اس لئے بسم اللہ کر کے قدم اٹھائیں قسمت بھرپور ساتھ دے گی جو لوگ عرصہ دراز سے تبدیلی کے خواہشمند تھے وہ تیاری شروع کر لیں۔

برج سرطان، سیارہ چاند، 21 جون سے 20 جولائی
آج کا دن آپ کی مالی مدد کرے گا انشاءاللہ اور کافی دِنوں سے جو تکلیف تنگ کر رہی تھی اس سے نجات حاصل ہو گی، مگر کچھ اپنے اب ساتھ بھی چھوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

برج اسد، سیارہ شمس، 21 جولائی سے 21 اگست
اپنے مزاج کو بدلیں اور سنجیدہ ہو جائیں اس موبائل نے آپ کو کچھ نہیں دیا ماسوائے وقت برباد کرنے کے۔آج جو سامنے آ رہا ہے اس پر اچھی طرح غور و فکر کی ضرورت ہے۔

برج سنبلہ ، سیارہ عطارد، 22 اگست سے 22 ستمبر
ایک بار پھر ماضی کی ایک غلطی سامنے آنے کا اندیشہ ہے اور جن لوگوں سے پہلے بھی دھوکا کھایا تھا وہ دوبارہ کر سکتے ہیں اس لئے آج وہ قریب بھی آئیں تو ان کو دور ہی رکھیں۔

برج میزان ، سیارہ زہرہ، 23 ستمبر سے 22 اکتوبر
آپ کو جن مسائل کا سامنا ہے اُن کے ٹھیک ہونے میں ابھی وقت درکار ہے مگر تھوڑی سی بہتری آج صبح ہی مل جائےگی اور آپ کو اپنے کاموں میں قدرے آسانیاں محسوس ہونگی۔

برج عقرب ، سیارہ مریخ، 23 اکتوبر سے 22 نومبر
ایک ٹینشن ختم ہوتی نہیں ہے کہ دوسری سر پر سوار ہو جاتی ہے،بری طرح جکڑن کا شکار لگتے ہیں آپ کو چاہئے کہ اپنا صدقہ دیں اور سات یوم لگاتار اپنی نظر بھی اتاریں۔

برج قوس ، سیارہ مشتری، 23 نومبر سے 20 دسمبر
آپ کو بار بار وارننگ دی جا رہی ہے کہ اپنے دلی معاملات پر قابو رکھیں اور توبہ کر کے واپسی کا راستہ اختیار کریں۔ آپ کے لئے صورتحال بڑی خراب ہو سکتی ہے یہ وارننگ ہے۔

برج جدی ، سیارہ زحل، 21 دسمبر سے 19 جنوری
دوسروں کی زندگی میں مداخلت نہ کریں اور نا ہی خود کسی کی زندگی میں مداخلت کریں اس طرح آپ نقصان سے بچ جائینگے آج کل ویسے ہی مخالفین بہت خلاف ہو رہے ہیں۔

برج دلو ، سیارہ زحل، 20 جنوری سے 18 فروری
مالی حالات کچھ تو بہتری کی طرف جا رہے ہیں مگر آپ کو ابھی بھی اچھے برے کی تمیز نہیں ہے غلط فیصلے کر رہے ہیں جو خود پر ظلم ہے آج کا دن صرف اپنی عقل استعمال کرنےکا ہے۔

سیارہ مشتری، 19 فروری سے 20 مارچ
اچھا دن ہے آپکو اپنے مسئلے کا حل مل سکتا ہے اور وہ کام بھی ممکن ہو گا جس سے آپ کی ایک بڑی ضرورت پوری ہو سکے گی۔ آج آپ کی صحت میں بھی بہتری آ رہی ہے بندش ٹوٹ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک