ترکیہ کیخلاف لڑنے والے کرد جنگجوؤں کا اسلحہ جلانے کیساتھ مسلح جدوجہد ختم کرنیکا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تعلق رکھنے والے 30 جنگجوؤں نے ترکیہ کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری مسلح تحریک کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کر دیا ۔ اس موقع پر انہوں نے علامتی طور پر اپنے ہتھیار ایک بڑے برتن میں ڈال کر آگ لگا دی۔
تقریب کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرد و خواتین جنگجو قطار میں کھڑے ہو کر اپنے اسلحے کو ایک بڑے دیگ نما برتن میں ڈال رہے ہیں، جسے بعد میں نذرِ آتش کر دیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پی کے کے، جو 1984 سے ترک ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد میں مصروف تھی اور جس پر پابندی عائد ہے، نے رواں سال مئی میں اپنے قید رہنما عبداللہ اوجلان کی اپیل پر تحریک کو ختم کرنے، تنظیم تحلیل کرنے اور ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ تقریب عراق کے شمالی کرد علاقے میں سلیمانیہ کے قریب دوقان قصبے سے 60 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع جسانہ نامی غار کے دہانے پر منعقد ہوئی، جہاں جنگجو فوجی وردیوں میں ملبوس اپنے چار اعلیٰ کمانڈرز کے ہمراہ موجود تھے۔
سینئر خاتون کمانڈر بیسے حوزات نے ترک زبان میں بیان پڑھ کر تنظیم کی جانب سے مسلح جدوجہد ختم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا ہم اپنے ہتھیار، آپ سب کی موجودگی میں، خیرسگالی اور امن کے عزم کے طور پر رضاکارانہ طور پر تباہ کر رہے ہیں۔
اس تقریب میں ترک اور عراقی انٹیلی جنس حکام، عراق کے کرد خودمختار علاقے کی حکومت کے نمائندے اور ترکی کی کرد نواز ڈی ای ایم پارٹی کے سینئر اراکین بھی شریک ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
امریکی فوج کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی افواج نے قشم جزیرے میں موجود ایک ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی اور اتحادی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے۔
امریکی بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بعض بیلسٹک میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کویت کی جانب فائر کیے گئے دو میزائل راستے میں گر گئے جبکہ بحرین کی طرف بڑھنے والے تین میزائل امریکی اور بحرینی فورسز نے فضا میں ہی تباہ کر دیے۔
اسی دوران امریکی فوج نے ایک ایسے آئل ٹینکر کو بھی ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر ایرانی جزیرے خارگ کی جانب رواں تھا۔
امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پر بوٹسوانا کا پرچم لہرا رہا تھا۔
مزید پڑھیںایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
دوسری طرف ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کا فوری جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قشم میں کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹر، بعض فضائی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر مراکز کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دینا ناگزیر تھا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کا بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق بحرین، کویت اور عراق میں سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ بحرین کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے۔
بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پاسداران انقلاب نے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی قیمت امریکا کو چکانا پڑے گی۔