16 جولائی 2024 کو جب بنگلہ دیش میں سیکیورٹی فورسز نے وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبا پر کریک ڈاؤن کیا، تب مشہور ریپر مسرور جہان عالف المعروف شیزان نے ایک گانا ریلیز کیاجس کے بول تھے؛ کوتھا کو یعنی آواز اٹھاؤ۔

 اس گانے میں سوال اٹھایا گیا کہ ’ملک کہتا ہے وہ آزاد ہے، تو پھر تمہاری گرج کہاں ہے‘، اسی دن ایک مظاہرہ کرنے والے طالبعلم ابو سید کی ہلاکت تحریک کی علامت بن گئی۔ سید کی شہادت نے احتجاج کو شدید تر کر دیا، اور شیزان کا گانا عوامی تحریک کا ترانہ بن گیا۔

ایک اور ریپر حنان حسین شمول کے گانے ’آواز اُٹھا‘ نے بھی نوجوانوں کو متحرک کیا، ان آوازوں نے بالآخر شیخ حسینہ کو اگست 2024 میں ملک چھوڑ کر بھارت جانے پر مجبور کر دیا۔

ایک سال بعد، شیزان نے ایک اور مقبول ریپ سونگ ’ہدّائی حتاشے‘ جاری کیا، جس میں انہوں نے چوروں کو پھولوں کے ہار پہنائے جانے کا طنز کیا، ان کے بقول، یہ اشارہ ان لوگوں کی طرف تھا جو شیخ حسینہ کے بعد نظام میں اہم عہدے سنبھال رہے ہیں مگر ان کے پاس اہلیت نہیں۔

آج بنگلہ دیش میں انقلابی تحریک کی سالگرہ منائی جا رہی ہے اور احتجاج میں استعمال ہونے والے انہی ٹولز یعنی ریپ میوزک، میمز، اور گرافیٹی اب مرکزی سیاسی گفتگو کا حصہ بن چکے ہیں، نہتے نوجوان جس طرح شیخ حسینہ کو ہٹانے کے لیے اپنا آرٹ بروئے کار لائے بعین اسی پیمانے سے اب موجودہ عبوری حکومت کو احتساب کے دائرے میں رکھ رہے ہیں۔

شیخ حسینہ کی رخصتی کے بعد بنگلہ دیش میں ایک فیس بک میم وائرل ہوئی جس میں حکومتی علامت کے اندر “عوامی جمہوریہ” کی جگہ “ہجوم کی جمہوریہ” لکھا گیا تھا اور ایک شخص پر لاٹھیوں سے تشدد ہوتا دکھایا گیا تھا۔ یہ میم صحافی اور سماجی کارکن عمران حسین نے بنایا تھا، جس کا مقصد نئی حکومت میں پھیلتے ہجوم کے تشدد پر احتجاج تھا۔

نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں نئی عبوری حکومت نے وسیع اصلاحاتی ایجنڈا متعارف کرایا، لیکن ہجوم کے تشدد نے اسے چیلنج سے دوچار کیا، صوفی مزاروں، ہندو اقلیتوں اور خواتین کی فٹبال ٹیموں پر حملے ہوئے، اور منشیات فروشوں کو قتل کیا گیا، یہ سب ویڈیوز میں ریکارڈ ہوا اور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا۔

اسی دوران، مزاحیہ میمز بھی مقبول ہوئیں، شیخ حسینہ کی ایک ویڈیو میں وہ میٹرو اسٹیشن کو ہونے والے نقصان پر رو رہی تھیں، جس پر میم بنی؛ ناتوک کوم کورو پریو یعنی ڈرامہ کم کرو، پیاری، یہ طنز ان کی منافقانہ ہمدردی پر تھا، جبکہ انہی دنوں سیکیورٹی اداروں نے درجنوں مظاہرین کو قتل کیا تھا۔

سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور پی ایچ ڈی اسکالر پُنی کبیر کے مطابق، شیخ حسینہ کے دور میں تنقید کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ صحافیوں اور کارٹونسٹوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن طنزیہ اظہار نے خوف کی دیوار توڑ دی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ میمز اور ریپ میوزک جیسے ذرائع مستقبل کی بنگلہ دیشی سیاست میں بھی مؤثر کردار ادا کریں گے، معروف کالم نگار شفقت ربی کے مطابق، چھوٹے، تیز اور وائرل ہونے والے تبصروں کے ساتھ میمز آج کا بنگلہ دیشی ’ٹوئٹر‘ بن چکے ہیں۔

مرکزی بینک نے بھی طلبا کے بنائے گئے گرافیٹی کو نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن میں شامل کر کے اس احتجاجی آرٹ کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا، ریپ میوزک، جسے ابتدا میں صرف مزاحمت کی آواز سمجھا جاتا تھا، اب روزمرہ زندگی میں بھی شامل ہو چکا ہے، اشتہارات، کلچر، اور نوجوانوں کی شناخت کا حصہ بن چکی ہے۔

ریپر شیزان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ گانے کسی شہرت کے لیے نہیں بنائے تھے، بس جو ہوتا دیکھا، اس پر ردعمل دیا، حنان حسین کو ان کے گانے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا گیا تھا، اور وہ شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کے بعد ہی رہا ہو سکے۔ ’اس فی البدیہہ احتجاجی ریپ میوزک کا مستقبل روشن ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انقلاب بنگلہ دیش طلبا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انقلاب بنگلہ دیش بنگلہ دیش میں ریپ میوزک

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں