UrduPoint:
2026-06-03@06:20:23 GMT

بنگلہ دیش: واحد ہندو سیاسی پارٹی، رجسٹریشن کے لیے کوشاں

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

بنگلہ دیش: واحد ہندو سیاسی پارٹی، رجسٹریشن کے لیے کوشاں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جولائی 2025ء) ایک ایسے ملک میں جہاں سرکاری مردم شماری کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ہندو آبادی 2011 میں 8.54 فیصد سے کم ہو کر 2022 میں 7.95 فیصد رہ گئی، وہاں ہندوؤں کے لیے سیاسی جماعت کا تصور بہت ہی جرات مندانہ ہے۔

بنگلہ دیش نے مذہبی تشدد سے متعلق امریکی انٹیلیجنس سربراہ کا بیان رد کر دیا

تاہم تمام مشکلات کے باوجود، بنگلہ دیش سناتن پارٹی (بی ایس پی) نے 26 اگست 2022 کو ڈھاکہ میں اپنے وجود میں آنے کا اعلان کیا۔

حالانکہ بنیاد پرست عناصر کی مخالفت نے اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو بی ایس پی کو سیاسی تنظیم کے طور پر رجسٹر کرنے کی اجازت دینے سے روک دیا تھا۔

سیاسی جماعت کی رجسٹریشن عام طور پر الیکشن کمیشن کا کام ہے لیکن بنگلہ دیش میں معاملات ذرا مختلف ہیں۔

(جاری ہے)

بی ایس پی کے بانی اور جنرل سکریٹری، سومن کمار رائے نے ڈھاکہ سے فون پر ایک بھارتی میڈیا ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’الیکشن کمیشن یہاں خود مختار نہیں ہے۔

یہ یا تو حکومت وقت کی خواہشات کے مطابق کام کرتا ہے، موجودہ معاملے میں محمد یونس کی سربراہی والی عبوری حکومت، یا فوج کے سربراہ کی ہدایت کے مطابق۔‘‘

بنگلہ دیش: بغاوت کے مبینہ ملزم ہندو مذہبی رہنما کی درخواست ضمانت مسترد

چونکہ رائے کی بنگلہ دیشی فوج تک رسائی محدود ہے اس لیے وہ عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بی ایس پی کو سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹریشن مل جائے۔

بنگلہ دیشی ہندوؤں کو شیخ حسینہ سے شکایت

رائے کے مطابق، ہندو کمیونٹی، جس نے حسینہ کی عوامی لیگ کو ہمیشہ یک مشت ووٹ دیا، عوامی لیگ کی رجسٹریشن مئی میں منسوخ کر دیے جانے کے بعد اپنی پسند کی سیاسی پارٹی چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ عالمی برادری کے سامنے یونس کے لیے بہتر امیج پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا کیونکہ حسینہ کے بھارت فرار ہو جانے کے بعد سے عبوری حکومت پر اقلیتوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بنگلہ دیش میں ہندو برادری شیخ حسینہ کی کھل کر حمایتی تھی اور ان کو بھی سابق وزیر اعظم کی مکمل تائید اور حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ہندوؤں کے لیے خصوصی پارٹی شروع کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

رائے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’میں حسینہ کے خلاف نہیں ہوں۔ وہ بہت زیادہ انتظامی معلومات رکھتی تھیں۔

لیکن حسینہ نے ہندوؤں کو محض ووٹ بینک سمجھا۔ ان کی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ وہ سب کو خوش رکھنا چاہتی تھیں، خواہ وہ بھارت ہو یا چین، بنیاد پرست ہوں یا ہندو۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ہمیں 2022 میں بی ایس پی کا آغاز کرنا پڑا۔‘‘ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کی صورت حال

پانچ اگست 2024، جب شیخ حسینہ بھارت فرار ہوئیں، کے بعد سے، بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے لیے حالات خراب ہوئے ہیں۔

ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں 4 اگست سے 20 اگست کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد کے کل 2,010 واقعات ہوئے۔ بنگلہ دیش کی ہندو بدھسٹ کرسچن اوکیا پریشد نے انکشاف کیا کہ مذکورہ عرصے کے دوران اقلیتوں کے 915 گھروں پر حملے کیے گئے، 953 کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا گیا، 69 مندروں کو نشانہ بنایا گیا، نو افراد کو ہلاک اور چار خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

بنگلہ دیش میں مذہبی کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

ڈھاکہ ٹریبیون نے 20 ستمبر کو لکھا، ’’تقریباً 50 ہزار مرد، خواتین، نوعمر، بچے اور جسمانی یا ذہنی معذوری والے افراد براہ راست متاثر ہوئے۔‘‘

ایک مقبول ہندو پجاری اور بنگلہ دیش سمیلیتا سناتن جاگرن منچ کے ترجمان، چنموئے کرشنا داس، جنہوں نے بہت سے مظاہروں کی قیادت کی تھی، کو 25 نومبر 2024 کو گرفتار کیا گیا، اور ان پر غداری کے الزامات عائد کیے گئے۔

ہندو سیاسی جماعت کی ضرورت کیوں؟

رائے کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے لیے اپنی سیاسی تنظیم کا ہونا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔

ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں اس وقت تقریباً 50 سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے 23 اسلام پسند جماعتیں ہیں۔

بی ایس پی کے جنرل سکریٹری کا سوال ہے کہ ’’کیا ہندوؤں کی اپنی ایک پارٹی نہیں ہونی چاہیے؟‘‘

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نےنئی سیاسی جماعت کے رجسٹریشن کے لیے سخت ضابطے رکھے ہیں۔

مثال کے طور پر، اس کی کم از کم 100 ذیلی شاخیں اور 21 ضلعی کمیٹیاں ہونی چاہئیں۔

بنگلہ دیش سناتن پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس کی 120 ذیلی شاخیں اور 50 سے زیادہ ضلعی کمیٹیاں ہیں، جو رجسٹریشن کے لئے ضروری سے کہیں زیادہ ہیں، جس کا ثبوت الیکشن کمیشن کو پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس کے لیے کم از کم 122 پارٹی دفاتر کی ضرورت ہے، جس میں بی ایس پی پیچھے ہے۔

رائے کہتے ہیں، ’’اس میں بہت پیسہ لگتا ہے اور میں اس کی ضمانت دے سکتا ہوں کہ رجسٹرڈ پارٹیوں کے ایک بڑے حصے کے پاس آج بھی 122 پارٹی دفاتر نہیں ہیں۔ تو پھر ہمارے ساتھ تفریق کیوں؟‘‘

رائے کی شیخ حسینہ سے شکایت ہے کہ ہندو نواز ہونے کا دم بھرنے کے باوجود انہوں نے بنگلہ دیش کی پہلی ’ہندو‘ پارٹی کو رجسٹریشن کی اجازت نہیں دی۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں اب کامیابی کی امید ہے؟ بنگلہ دیش سناتن پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا،''کوئی ہمیں اجازت نہیں دے گا، کوئی بنگلہ دیش کے ہندوؤں کو اقتدار میں آنے کی اجازت نہیں دے گا۔ پھر بھی، ہم کوشش کر رہے ہیں۔ بہت کم لوگوں نے ہمیں فرقہ پرست کہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم لفظ 'سناتن‘ کو چھوڑ دیں، جبکہ اسلامی آندولن بنگلہ دیش یا بنگلہ دیش اسلامک فرنٹ جیسے ناموں پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔‘‘

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے لیے الیکشن کمیشن سیاسی جماعت بی ایس پی کے مطابق

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔

سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔

عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے