وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، وفاقی حکومت کے قرضے ریکارڈ 76 ہزار 45 ارب روپے ہوگئے، اسٹیٹ بینک نے مئی 2025 تک کے وفاقی حکومت کے قرضوں کا ڈیٹا جاری کردیا۔
اسٹیٹ بینک نے مئی 2025 تک وفاقی حکومت کے قرض سے متعلق اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں، دستاویز کے مطابق حکومت کا مقامی قرضہ 53 ہزار 460 ارب روپے ہوگیا، وفاقی حکومت کابیرونی قرضہ مئی 2025 تک 22 ہزار 585 ارب روپے رہا۔
دستاویز کے مطابق ایک سال میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 8 ہزار 312 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دستیاب دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال 25-2024 کے پہلے 11 ماہ میں وفاقی حکومت کا قرضہ 7 ہزار 131 ارب روپے بڑھا، مئی کے ایک مہینے میں مرکزی حکومت کے قرضے میں 1109 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
دستاویز کے مطابق جون 2024 سے مئی 2025 کے 11 ماہ میں وفاقی حکومت کا قرضہ8 ہزار 312 ارب روپے بڑھا، مئی 2025 تک وفاقی حکومت کے قرضوں کا حجم 76 ہزار 45 ارب روپے رہا۔
اپریل 2025 تک وفاقی حکومت کے قرضے 74 ہزار 936 ارب روپے تھے، جون 2024 تک مرکزی حکومت کے قرضوں کا حجم 68 ہزار 914 ارب روپے تھا، مئی 2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے 67 ہزار 733 ارب روپے تھے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت کے قرضے تک وفاقی حکومت کے دستاویز کے مطابق حکومت کے قرضوں مئی 2025 تک حکومت کا ارب روپے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔