پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا طوفان، 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے مالی سال کا آغاز غیر معمولی تیزی کے ساتھ ہوا ہے، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور بہتر معاشی اشاریوں کے باعث مارکیٹ روزانہ کی بنیاد پر نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔
گزشتہ روز کاروباری سرگرمیوں کے دوران 100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 30 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا تھا، جب کہ آج جمعرات کو کاروبار کے آغاز سے ہی تیزی کا رجحان غالب رہا۔
ابتدائی گھنٹوں میں 100 انڈیکس میں 727 پوائنٹس کا شاندار اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد انڈیکس 1,31,071 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس محض پانچ کاروباری دنوں میں تقریباً 9 ہزار پوائنٹس کی غیر معمولی پیش رفت کر چکا ہے، جو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی تیزی شمار کی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں جاری یہ مثبت رحجان حکومتی اقتصادی پالیسیوں، آئی ایم ایف پروگرام کی پیش رفت اور کاروباری طبقے کے اعتماد کی بحالی کا نتیجہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔