پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، انڈیکس ایک لاکھ 31 ہزار کی سطح بھی عبور کرگیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کراچی:
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج پھر نئی تاریخ رقم ہوئی ہے اور اس دوران انڈیکس ایک لاکھ 31 ہزار کی تاریخی سطح بھی عبور کرگیا۔
نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی بازارِ حصص نے شاندار رفتار اختیار کرتے ہوئے تاریخی بلندیوں کو چھونا شروع کر دیا ہے، جس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جمعرات کے روز پی ایس ایکس میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا اور 100 انڈیکس میں 727 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس نئی بلند ترین سطح ایک لاکھ 31 ہزار 071 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
یہ صورتحال اس مسلسل رجحان کا تسلسل ہے جو نئے مالی سال کے پہلے ہی دن سے دیکھا جا رہا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں شاندار تیزی گزشتہ چند روز سے جاری ہے۔ گزشتہ روز بھی کے ایس ای 100 انڈیکس نے ایک لاکھ 30 ہزار کی نفسیاتی حد عبور کی تھی اور محض 5 کاروباری دنوں کے دوران انڈیکس میں مجموعی طور پر 9 ہزار پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے، جو حالیہ برسوں کی نمایاں ترین کارکردگیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے آغاز کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں، آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں مثبت پیش رفت اور صنعتی شعبے میں بہتری کی توقعات ہو سکتی ہیں۔
اس تاریخی رفتار نے نہ صرف اسٹاک مارکیٹ کے حجم میں اضافہ کیا ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارے بھی بھیجے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو سرمایہ کاروں کو مختصر اور طویل مدتی بنیادوں پر اچھے منافع کی توقع ہو سکتی ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی حالیہ کارکردگی نے عالمی سرمایہ کاری حلقوں کی بھی توجہ حاصل کی ہے اور اس تیزی کو ملکی معیشت میں استحکام کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جا رہا ہے ایک لاکھ کے ساتھ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں