ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے، ساقی!
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے تباہ حال تعلیمی منظرنامے میں دلوں کو مسرت دینے والی خبریں کم ہی آتی ہیں۔ اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی کے طالب علموں نے 2025 کے اے پی اے سی سلیوشن چیلنج میں ’’اے آئی کے بہترین استعمال کا ایوارڈ‘‘ جیت کر نہ صرف ملک کا نام روشن کیا بلکہ ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستانی نوجوان اگر مواقع، رہنمائی اور وسائل سے بہرہ مند ہوں تو وہ عالمی سطح پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ گوگل ڈیویلپرز گروپس اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اشتراک سے منعقدہ یہ مقابلہ جہاں مصنوعی ذہانت اے آئی کو حقیقی زندگی کے مسائل کے عملی حل میں استعمال سے متعلق ہے۔ اس چیلنج میں پاکستانی ٹیم کا جیتنا اختراعی سوچ، تکنیکی مہارت، اور علمی بلوغت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ احمد اقبال اور محمد عبداللہ پر مشتمل اس باصلاحیت ٹیم نے سیٹلائٹ امیجری کو جنیریٹیو اے آئی کے ساتھ مربوط کر کے ماحولیاتی اور جغرافیائی مسائل کا جو حل پیش کیا، وہ نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی مثال ہے بلکہ پاکستان جیسے ملک میں پائیدار ترقی کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کا ایک قابل ِ تقلید ماڈل بھی ہے۔ گوگل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر کا یہ کہنا بجا ہے کہ پاکستان کا ٹیلنٹ جگمگا رہا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے ہم اکثر خود فراموش کر بیٹھتے ہیں، حالانکہ وسائل کی تنگی کے باوجود پاکستانی نوجوانوں کی ذہانت، عزم اور صلاحیت ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ یہ کامیابی اس مصرعہ کا منہ بولتا ثبو ت ہے کہ : ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے، ساقی!‘‘ اس کامیابی کے تناظر میں ہمیں خود سے کچھ بنیادی سوالات بھی کرنے ہوں گے: کیا ہمارے تعلیمی ادارے عمومی طور پر ایسی اختراعی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، تحقیق کی سہولت، اور عملی منصوبوں پر کام کرنے کے مواقع دیے جا رہے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا ہم بحیثیت قوم اپنی نوجوان نسل پر اعتماد کر رہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور تعلیمی ادارے مل کر ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں تحقیق، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے۔ پاکستانی جامعات کو نالج بیسڈ معیشت کا ستون بنانے کے لیے دور اندیشی، سرمایہ کاری، اور پالیسی کی سطح پر انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ کامیابی محض دو طالب علموں کی نہیں، یہ پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے امکانات کی جھلک ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے نوجوان اذہان کو ملکی پالیسی، تحقیقی بجٹ، اور ادارہ جاتی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دی جائے۔ تبھی یہ مٹی اپنے اندر سے مزید ایسے ہی ہیرے تراشنے لگے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔