لیاری، ملبے تلے دبے افراد کی نشاندہی کیلیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
کراچی:
لیاری میں گرنے والی عمارت کے ملبے تلے دبے افرادکی نشاندہی کیلیے ریسکیو 1122 کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات استعمال کیے گئے، ان آلات میں زندگی کی علامت ظاہر کرنے والا ڈیٹیکٹر سمیت دیگر شامل ہیں۔
اس حوالے سندھ حکومت کے ریسکیو 1122 کے ڈپٹی کمانڈر حماد قریشی نے ایکسپریس کو بتایا کہ زلزلے یا کسی وجہ سے کوئی عمارت گرجائے تو اس کے ملبہ تلے کسی شخص کو زندہ نکالنا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے، اس دوران ریسیکو اینڈ ریلیف آپریشن احتیاط سے کیا جاتا ہے، ریسیکو 1122 کا شعبہ اربن رییسکو یونٹ ملبے میں دبے افراد کی نشاندہی کیلیے کام کرتا ہے،
یہ ٹیم خصوصی تربیت یافتہ ہوتی ہے، اربن ریسیکو یونٹ کے 100 سے زائد عملہ لیاری کے علاقہ بغدادی میں گرنے والی عمارت کے ملبے تلے افرادکی زندہ ہونے کی علامت معلوم کرنے کیلیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی, ملبے کو کاٹنے کیلیے جدید کٹرز اور ڈرل مشینوں کا استعمال کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس کے حامل ٹیکنالوجی آلات میں سرچ کیمرے، زندگی کا پتہ لگانے والاآلہ لائف ڈیٹیکٹر، بیٹری وہائیڈرولک اسپیڈی کٹر و جیکز، ہائی پاورڈرل اور ریڈار شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ لائف ڈیٹیکٹر کے ساتھ سینسر پر مشتمل نظام ہوتا ہے جو ملبے کے نیچے موجود زندہ فردکے دل کی دھڑکن یا آواز سے اس کی زندگی کی نشاندہی کرتاہے، ریڈار اور کیمرے بھی زندگی کی علامت ظاہر کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کے زندہ لوگوں کو ملبہ سے نکالا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی نشاندہی بتایا کہ
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔