کراچی:

لیاری میں گرنے والی عمارت کے ملبے تلے دبے افرادکی نشاندہی کیلیے ریسکیو 1122 کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات استعمال کیے گئے، ان آلات میں زندگی کی علامت ظاہر کرنے والا ڈیٹیکٹر سمیت دیگر شامل ہیں۔

اس حوالے سندھ حکومت کے ریسکیو 1122 کے ڈپٹی کمانڈر حماد قریشی نے ایکسپریس کو بتایا کہ زلزلے یا کسی وجہ سے کوئی عمارت گرجائے تو اس کے ملبہ تلے کسی شخص کو زندہ نکالنا سب سے اہم مرحلہ ہوتا ہے، اس دوران ریسیکو اینڈ ریلیف آپریشن احتیاط سے کیا جاتا ہے، ریسیکو 1122 کا شعبہ اربن رییسکو یونٹ ملبے میں دبے افراد کی نشاندہی کیلیے کام کرتا ہے،

یہ ٹیم خصوصی تربیت یافتہ ہوتی ہے، اربن ریسیکو یونٹ کے 100 سے زائد عملہ لیاری کے علاقہ بغدادی میں گرنے والی عمارت کے ملبے تلے افرادکی زندہ ہونے کی علامت معلوم کرنے کیلیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی, ملبے کو کاٹنے کیلیے جدید کٹرز اور ڈرل مشینوں کا استعمال کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے حامل ٹیکنالوجی آلات میں سرچ کیمرے، زندگی کا پتہ لگانے والاآلہ لائف ڈیٹیکٹر، بیٹری وہائیڈرولک اسپیڈی کٹر و جیکز، ہائی پاورڈرل اور ریڈار شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ لائف ڈیٹیکٹر کے ساتھ سینسر پر مشتمل نظام ہوتا ہے جو ملبے کے نیچے موجود زندہ فردکے دل کی دھڑکن یا آواز سے اس کی زندگی کی نشاندہی کرتاہے، ریڈار اور کیمرے بھی زندگی کی علامت ظاہر کرنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کے زندہ لوگوں کو ملبہ سے نکالا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی نشاندہی بتایا کہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ