بھارتی ٹیکنالوجی ماہر سہام پریخ جن پر امریکہ میں قائم کئی اسٹارٹ اپس میں بیک وقت ملازمت (moonlighting) کرنے کے الزامات ہیں، نے اپنے سابقہ باس اور لیپنگ اے آئی (Leaping AI) کمپنی کے شریک بانی ارکادی ٹیلیگن کو مئی میں ہونے والے پاک بھارت تنازعے کا حوالہ دے کر کام سے جان چھڑانے کا بہانہ بنایا۔

اس بات کا دعویٰ ارکادی ٹیلیگن نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب سہام پریخ نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ بغیر کسی کو مطلع کیے بیک وقت کئی اسٹارٹ اپس کے لیے کام کر رہے تھے۔

لیپنگ اے آئی کے کو فاؤنڈر ٹیلیگن کے مطابق پریخ نے جھوٹ بولا کہ وہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایک متنازع علاقے کے قریب رہائش پذیر تھے اور یہ بھی کہا میرے گھر سے 10 منٹ کے فاصلے پر ڈرون فائر ہوا ہے، حالانکہ وہ تو درحقیقت ممبئی میں رہتے ہیں۔

ٹیلیگن نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سہام نے انہیں کوڈنگ کے ایک مرحلے (PRs) میں تاخیر پر شرمندہ کیا، حالانکہ وہ خود جنگی حالات کے بارے میں غلط بیانی کر رہے تھے۔ جب ٹیلیگن نے ان کی خیریت دریافت کی تو پریخ نے جھوٹ بولا ان کے گھر کے قریب ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

ٹیلیگن نے پریخ کے ساتھ ہونے والی چیٹس کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔

Soham character arc that I hoped to see pic.

twitter.com/OSEi8YHJ3O

— Arkadiy Telegin (@akyshnik) July 4, 2025

Soham also used to guilt trip me for his being slow on PRs when India Pakistan thing was going on, all while he was in Mumbai.

Next person should hire him for the Chief Intelligence Officer role. pic.twitter.com/kYZqkpWIse

— Arkadiy Telegin (@akyshnik) July 2, 2025


یہ گفتگو اُس وقت ہوئی جب 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام حملے کے ردعمل میں بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا، جس کے بعد پاک بھارت تناؤ شدت اختیار کرگیا تھا۔

بعد ازاں پریخ نے ٹیلیگن سے معافی مانگی اور کہا کہ انہیں جو ”پریشانی“ ہوئی، اس پر وہ معذرت خواہ ہیں۔ ٹیلیگن نے اس معذرت کا اسکرین شاٹ بھی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ سہام کا وہ کردار جو میں دیکھنا چاہتا تھا۔

Post Views: 3

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار