مودی سرکار کے ساتھ ساتھ بھارتی نوجوان بھی جھوٹ میں ماہر، جنگ میں پاکستانی جواب کو کام سے جان چھڑانے کا بہانہ بنا لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
بھارتی ٹیکنالوجی ماہر سہام پریخ جن پر امریکہ میں قائم کئی اسٹارٹ اپس میں بیک وقت ملازمت (moonlighting) کرنے کے الزامات ہیں، نے اپنے سابقہ باس اور لیپنگ اے آئی (Leaping AI) کمپنی کے شریک بانی ارکادی ٹیلیگن کو مئی میں ہونے والے پاک بھارت تنازعے کا حوالہ دے کر کام سے جان چھڑانے کا بہانہ بنایا۔
اس بات کا دعویٰ ارکادی ٹیلیگن نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب سہام پریخ نے خود اعتراف کیا ہے کہ وہ بغیر کسی کو مطلع کیے بیک وقت کئی اسٹارٹ اپس کے لیے کام کر رہے تھے۔
لیپنگ اے آئی کے کو فاؤنڈر ٹیلیگن کے مطابق پریخ نے جھوٹ بولا کہ وہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ایک متنازع علاقے کے قریب رہائش پذیر تھے اور یہ بھی کہا میرے گھر سے 10 منٹ کے فاصلے پر ڈرون فائر ہوا ہے، حالانکہ وہ تو درحقیقت ممبئی میں رہتے ہیں۔
ٹیلیگن نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سہام نے انہیں کوڈنگ کے ایک مرحلے (PRs) میں تاخیر پر شرمندہ کیا، حالانکہ وہ خود جنگی حالات کے بارے میں غلط بیانی کر رہے تھے۔ جب ٹیلیگن نے ان کی خیریت دریافت کی تو پریخ نے جھوٹ بولا ان کے گھر کے قریب ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔
ٹیلیگن نے پریخ کے ساتھ ہونے والی چیٹس کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔
Soham character arc that I hoped to see pic.
— Arkadiy Telegin (@akyshnik) July 4, 2025
Soham also used to guilt trip me for his being slow on PRs when India Pakistan thing was going on, all while he was in Mumbai.
Next person should hire him for the Chief Intelligence Officer role. pic.twitter.com/kYZqkpWIse
— Arkadiy Telegin (@akyshnik) July 2, 2025
یہ گفتگو اُس وقت ہوئی جب 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام حملے کے ردعمل میں بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا، جس کے بعد پاک بھارت تناؤ شدت اختیار کرگیا تھا۔
بعد ازاں پریخ نے ٹیلیگن سے معافی مانگی اور کہا کہ انہیں جو ”پریشانی“ ہوئی، اس پر وہ معذرت خواہ ہیں۔ ٹیلیگن نے اس معذرت کا اسکرین شاٹ بھی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ سہام کا وہ کردار جو میں دیکھنا چاہتا تھا۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔