اسلام آباد:

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت دہشتگردی میں ملوث اور دہشتگرد افغانستان کے اندر موجود ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بنیادی مسئلہ ہی دہشت گردی ہے۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے ثالثی عدالت کے ضمنی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ عدالت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی معطلی کے بعد فیصلہ جاری کیا۔

ترجمان کے مطابق ضمنی فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ درست اور فعال ہے۔ فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت  سندھ طاس معاہدے پر یکطرفہ کارروائی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ضمنی فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی توثیق کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بریفنگ میں کہا کہ پاکستان بھارت پر زور دیتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو معمول کے طور پر چلائے۔ بھارت پر زور دیتے ہیں کہ اپنے معاہدے کی ذمے داریوں کو  پورا کرے۔

علاوہ ازیں ترجمان نے بتایا کہ پاک بھارت قیدیوں کی فہرستیں یکم جولائی کو ایکسچینج کی گئی ہیں۔ 2008ء  کے کونسلر ایکسس ایگریمنٹ کے تحت فہرستیں شیئر کی گئیں۔ پاکستان نے 246 قیدیوں کی لسٹ ہندوستان ہائی کمیشن کے حوالے کردی۔

ترجمان کے مطابق بھارت نے پاکستانی قیدیوں کی لسٹ دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کی۔ بھارت پر زور دیتے ہیں کہ پاکستانی قیدی کی حفاظت کریں اور ان کا خیال رکھا جائے۔

ہفتہ وار بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ای سی او کا 17 واں اجلاس آذربائیجان میں ہوا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی وفد کی قیادت کی اور پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف سائیڈ لائنز پر دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

علاوہ ازیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترک ہم منصب سے بھی رابطہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ترک وزیر خارجہ پاکستان کا دورہ کریں گے، اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد شیئر کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مزید بہتر تعلقات بنانا چاہ رہے ہیں۔ پاک افغان تعلقات میں بنیادی مسئلہ دہشت گردی ہے۔ ہندوستان اسی دہشتگردی میں ملوث ہے۔ افغانستان کے ساتھ یہ باتیں شیئر کی ہیں۔ افغانستان کے اندر دہشت موجود ہیں

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان افغانستان کے دفتر خارجہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار