سندھ طاس معاہدہ پر عالمی ثالثی عدالت کا ضمنی فیصلہ پاکستانی موقف کی توثیق ہے، شفقت علی خان
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کہ بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، بھارتی وزیر خارجہ کا پاکستان کی نیوکلیئر بلیک میلنگ کا کہنا ہماری صلاحیت اور ان کے عدم تحفظ کی عکاسی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پر عالمی ثالثی عدالت کا ضمنی فیصلہ پاکستانی موقف کی توثیق ہے۔ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی غیر قانونی معطلی کے بعد فیصلہ جاری کیا، پاکستان ثالثی عدالت کی ضمنی فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ضمنی فیصلہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ درست اور فعال ہے، فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدہ پر یکطرفہ کارروائی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ شفقت علی خان نے کہا کہ بھارت کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں، جے شنکر کا پاکستان کی نیوکلیئر بلیک میلنگ کا کہنا ہماری صلاحیت اور ان کے عدم تحفظ کی عکاسی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی جولائی کے لیے صدارت سنبھال لی ہے، پاکستان کثیرالجہتی اور تنازعات کے پُرامن حل اور مسئلہ فلسطین کے اجلاسوں کی صدارت کرے گا، تبت کا معاملہ چین کا اندرونی معاملہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ سندھ طاس معاہدہ شفقت علی خان ثالثی عدالت نے کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔