پاک ‘بھارت سرحد کی بندش کے باوجود شہریوں کی واپسی جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(مانیٹر نگ ڈ یسک )پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی اور تناؤ کی وجہ سے دونوں ملکوں کی سرحد بند ہے تاہم دونوں ملکوں میں موجود ایک دوسرے کے شہریوں کی واپسی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور جمعرات کو بھارت سے 46 پاکستانی واپس پہنچے جن میں 35 پاکستانی ہندو شامل ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والا ہندوخاندان گزشتہ برس
بھارت گیا تھا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث بھارتی حکومت پاکستانی ہندو خاندانوں کو واپس بھیج رہی ہے۔بھارت سے جمعرات کو 46 پاکستانی براستہ واہگہ بارڈر واپس پہنچے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت ہندو خاندان بھی شامل تھے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم مقبوضہ کشمیر کے طلبہ واہگہ بارڈر کے راستیواپس گئے ہیں۔اسی طرح رواں برس مارچ سے اب تک تقریباً 1,660 پاکستانی شہری بھارت سے اپنے وطن واپس آ چکے ہیں جبکہ 24 اپریل سے 29 اپریل تک تقریباً 1,687 بھارتی شہری پاکستان سے واپس اپنے ملک گئے، ان افراد میں بزرگ، خواتین، طلبہ اور دیگر مسافر شامل تھے، جو مختلف وجوہات کی بنیاد پر پاکستان میں مقیم تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :