data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک خاص ٹیکنالوجی جو ملبے کے نیچے پھنسے انسان کے جسم کی معمولی سی حرکت کا بھی پتہ لگا لیتی ہے۔

ناسا کی تیارکردہ اِس ٹیکنالوجی پر مبنی آلے کو ’’فائنڈر‘‘کہتے ہیں جو ایمرجنسی میں زندہ افراد کو ڈھونڈنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ آلہ مائیکروویو ریڈار سینسرز کے ذریعے ملبے کے نیچے یا برفانی تودے میں دبے لوگوں کی سانس اور دل کی دھڑکن کو دور سے محسوس کرکے ان کی موجودگی کا پتا لگاتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی امریکی محکمہ برائے داخلی سلامتی اور امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے مل کر تیار کی تھی جو خاص طور پر عمارتوں کے ملبے میں پھنسے لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے بنائی گئی۔

اس ٹیکنالوجی کو ہیٹی کے 2010 کے تباہ کن زلزلے کے بعد تیار کیا گیا اور پھر اُسے کمرشل بنیادوں پر ریلیز کیا گیا، اس کے علاوہ 2023 میں ترکیہ اور شام کے زلزلے میں ناسا نے اپنے مصنوعی سیاروں کو بھی ہدایت دی تھی کہ وہ متاثرہ علاقوں کی تصاویر حاصل کریں تاکہ نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے اور امدادی ٹیموں کو رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں نصب ایک اور آلہ EMIT بھی استعمال میں لایا گیا جو زمین کی فضا میں گرد و غبار کا تجزیہ کرتا ہے تاکہ کسی ممکنہ گیس لیک کا پاہ لگا کر خطرات کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان