data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن: برطانیہ نے شام کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات دوبارہ قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی نے دمشق کے دورے میں اس پیش رفت کے حوالے سے بتایا، یہ اعلان گزشتہ دسمبر میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کیا گیا ہے۔

ڈیوڈ لیمی نے بیان میں کہا کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے تنازع کے بعد شامی عوام کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے، برطانیہ سفارتی تعلقات اس لیے بحال کر رہا ہے کیونکہ یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم نئی حکومت کو ایک مستحکم، زیادہ محفوظ اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے وعدے کی تکمیل میں مدد دیں۔

یہ بیان برطانوی وزیر خارجہ کی شام کے عبوری صدر احمد الشراع سے دمشق میں ملاقات کے بعد سامنے آیا، شامی ایوانِ صدر نے بتایا کہ بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد ڈیوڈ لیمی کایہ پہلا دورہ ہے۔

شامی ایوان صدر کی جانب سے تصاویر کے مطابق احمد الشراع نے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کے ہمراہ ڈیوڈ لیمی کا استقبال کیا۔

احمد الشراع کے دفتر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے طریقے اور علاقائی و عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دسمبر میں باغیوں کی قیادت میں افواج کے ذریعے بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شام میں سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔

مئی میں شامی وزیرِ دفاع مرحف ابو قصرہ نے ایک برطانوی وفد سے ملاقات کی تھی، اپریل میں برطانوی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ بشار الاسد کے دور حکومت میں شام کی وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع پر عائد کی گئی پابندیاں ختم کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بشار الاسد کے ڈیوڈ لیمی کے بعد

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار