Express News:
2026-06-03@06:28:14 GMT

کوئی نہ آیا

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

یہ سوات کی وادی جو اپنی خوبصورتی اور دلفریب نظاروں کے لیے مشہور ہے، آج وہاں وحشت طاری ہے۔ کبھی برف پوش پہاڑ پہ زندگی کا راز چھپا ہوتا تھا، کبھی ندی نالوں کی گونج میں انسان کا کلام، اس بار وہاں صرف بے بسی تھی، درد تھا، سسکیاں تھیں۔ جون کے آخری ہفتے میں ایک ہی خاندان کے سترہ افراد تفریح کی غرض سے گئے اور اس وادی سے نہیں لوٹے۔ یہ عام لوگ تھے جو وہاں پانی کے ریلے میں کئی گھنٹے پھنسے رہے اور مدد کے لیے پکارتے رہے مگر کوئی ان کی مدد کو نہ آیا۔

 وہ آخر وقت تک ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اس امید میں رہے کہ انھیں بچا لیا جائے گا لیکن ریاست کی مشینری خاموش تھی۔ انتظامیہ نے بعد میں یہ بیان دیا کہ ریسکیو ٹیمیں بھیجی گئیں، ہم نے کوشش کی مگر موسم خطرناک تھا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس دن حکومت اور ارباب اختیار کی نااہلی کی وجہ سے وہ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔

یہ سانحہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی حکومت اور ارباب اختیار اس ہی طرح غیر ذمے داری کا ثبوت دیتے آئے ہیں۔ یہ واقعہ صرف سوات کا نہیں یہ ہمارا قومی المیہ ہے۔اور پھر سوال اٹھتا ہے کیا یہ ریاست ہے یا صرف ایک لفظ ہے کیونکہ ریاست کی کچھ ذمے داریاں ہوتی ہیں اور ریاست عوام کو جوابدہ ہوتی ہے۔

آپ ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرسکتے ہیں، چاند پر مشن بھیج سکتے ہیں لیکن سیلابی باڑ میں پھنسے انسانوں کو نہیں نکال سکتے، غریب کے لیے صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے۔ چند دنوں میں لوگ اس واقعے کو بھول جائیں گے مگر جن معصوم اور بیگناہ لوگوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا، ان کا خاندان یہ کبھی بھلا نہیں سکے گا۔ ہم کچھ عرصے بعد پھر کوئی ایسی خبر سن رہے ہوں گے کیونکہ ہمارے ہاں حکومت یا ارباب اختیار کو کٹہرے میں تو کوئی کھڑا کر نہیں سکتا۔

ان میں ایک ماں، ایک باپ، ایک بھائی، ایک بیٹا تھے۔ ان کی موت ہم سے سوال کر رہی ہے کہ ہم کیوں خاموش ہیں؟ کیا ہم نے دیکھا سنا اور سن کر ان سے سوال کیا جن کی خاموشی اور بے حسی کی بدولت یہ واقعہ رونما ہوا۔ ہماری ریاست کا چلن ہے، وہ طاقتور کے لیے تو کچھ بھی کر گزرے مگر عام آدمی کے لیے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ ابھی بھی حکومت نے افسوس کا اظہار کیا اور بس ان کی نظر میں ان کی ذمے داری پوری ہوگئی۔ ریاست کا کام ہے کہ وہ عوام کے لیے ہر وقت اور ہر حال میں موجود رہے اور اپنی ذمے داری کو نبھائے۔ حکومت ذمے دار ہوتی ہے اور ریاستی مشین کو عوام کے لیے ہر حال میں حرکت کرنا چاہیے۔

ہم جانتے ہیں کہ فلڈ الرٹس سسٹم موجود ہے، ڈرون موجود ہیں، ہیلی کاپٹر موجود ہیں لیکن یہ سب اس دن کہاں تھے؟ کیونکہ جب کوئی سرکاری اہمیت کا معاملہ ہوتا ہے تو یہ سب فوراً حرکت میں آجاتے ہیں، طاقتور کی پکار ہوتی ہے عوام کی نہیں۔ لوگ کچھ دن اس سانحے پہ بات کریں گے اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس خاموشی کو قبول کرلیا ہے؟ کیونکہ اگر ہم نے قبول کر لیا ہے تب ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ ہمارے ساتھ یہی سب ہوگا، اگر ہمارے پاس ریاست ہے تو ریاست کی کچھ ذمے داری ہوتی ہے اور آج پاکستانی عوام اپنی ریاست اور ارباب اختیار سے سوال کررہے ہیں کہ جب عوام کو اس کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ تب کہاں ہوتے ہیں۔

یہ کالم ایک احتجاج ہے یہ سوال ہے ریاست سے، سماج سے، ہم سب سے کہ آخر یہ بے حسی، یہ ظلم کب تک۔ریاست کو ہمارے سوالوں کا جواب دینا ہوگا اور اپنی ذمے داری نبھانی ہوگی، ہم کب تک لاوارث ہو کر جیئیں۔ ورنہ ہم ایک بے عمل ریاست کے زیر سایہ جیتے رہیں گے، وہ ریاست جو الفاظ میں تو موجود ہے مگر عمل کی دنیا میں کہیں کھو گئی ہے۔ 

وہ ریاست جو سترہ لوگوں کو ڈوبتا دیکھتی ہے اور اپنا سر جھکائے بیان دے دیتی ہے لیکن پھر چپ ہو جاتی ہے، یہ ریاست خود کو بچانا جانتی ہے مگر عوام کو خطرہ میں چھوڑ دیتی ہے۔اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں اس خاموشی کے بیچ بولنا ہوگا، سوال کرنا ہوگا، اداروں کو ذمے دار ٹھہرانا ہوگا اور انصاف کے لیے لڑنا ہوگا۔ ہم صرف مایوس ہوکر نہیں رہ سکتے، ہماری ریاست زندہ ہے یا مردہ ہمارے درد اور خوشی میں ہماری ساتھ ہے یا نہیں۔

ہمارا حق ہے کہ ہم سوال کریں اور انصاف مانگیں ریاست کی خاموشی ناقابل قبول ہے، اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ آیندہ کوئی ایسا سانحہ نہ ہو تو ریاست کو اور ارباب اختیار کو جواب دینا ہوگا اور عوام کے لیے اپنی ذمے داری کو بہ خوبی نبھانا ہوگا۔ کیا ہم واقعی اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ بے گناہوں کے جنازے بھی ہماری بے حسی کو نہیں ہلا سکتے۔ کیا ان گھروں کے سناٹے کو ہم سننے کے قابل نہیں رہے جہاں ایک ہی وقت میں سترہ پیارے پانی کا ریلہ بہا کر لے گیا ہو اور وہ بھی ان کے پیاروں کی آنکھوں کے سامنے۔

میں سوچتی ہوں جب وہ پانی کے بیچ کھڑے سترہ لوگ آخری لمحوں میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ رہے تھے تو کیا ان کے دل میں یہ خیال آیا ہوگا کہ ریاست انھیں بچانے آرہی ہے یا شاید وہ جان چکے تھے کہ کوئی نہیں آئے گا۔ یہ المناک واقعہ ایک آئینہ ہے ہمارے نظام کا، ہماری حکومت کا، ہمارے ضمیر کا۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کیا ہم واقعی ایک ریاست رکھتے ہیں؟ یا ہماری ریاست صرف طاقتور اور بااثر لوگوں کے لیے ہے، عام لوگوں کے لیے نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور ارباب اختیار ریاست کی ہوتی ہے سوال کر سے سوال ہے اور اگر ہم ہیں کہ کیا ہم

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد