Express News:
2026-07-24@11:00:13 GMT

کوئی نہ آیا

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

یہ سوات کی وادی جو اپنی خوبصورتی اور دلفریب نظاروں کے لیے مشہور ہے، آج وہاں وحشت طاری ہے۔ کبھی برف پوش پہاڑ پہ زندگی کا راز چھپا ہوتا تھا، کبھی ندی نالوں کی گونج میں انسان کا کلام، اس بار وہاں صرف بے بسی تھی، درد تھا، سسکیاں تھیں۔ جون کے آخری ہفتے میں ایک ہی خاندان کے سترہ افراد تفریح کی غرض سے گئے اور اس وادی سے نہیں لوٹے۔ یہ عام لوگ تھے جو وہاں پانی کے ریلے میں کئی گھنٹے پھنسے رہے اور مدد کے لیے پکارتے رہے مگر کوئی ان کی مدد کو نہ آیا۔

 وہ آخر وقت تک ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اس امید میں رہے کہ انھیں بچا لیا جائے گا لیکن ریاست کی مشینری خاموش تھی۔ انتظامیہ نے بعد میں یہ بیان دیا کہ ریسکیو ٹیمیں بھیجی گئیں، ہم نے کوشش کی مگر موسم خطرناک تھا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس دن حکومت اور ارباب اختیار کی نااہلی کی وجہ سے وہ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔

یہ سانحہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی حکومت اور ارباب اختیار اس ہی طرح غیر ذمے داری کا ثبوت دیتے آئے ہیں۔ یہ واقعہ صرف سوات کا نہیں یہ ہمارا قومی المیہ ہے۔اور پھر سوال اٹھتا ہے کیا یہ ریاست ہے یا صرف ایک لفظ ہے کیونکہ ریاست کی کچھ ذمے داریاں ہوتی ہیں اور ریاست عوام کو جوابدہ ہوتی ہے۔

آپ ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرسکتے ہیں، چاند پر مشن بھیج سکتے ہیں لیکن سیلابی باڑ میں پھنسے انسانوں کو نہیں نکال سکتے، غریب کے لیے صرف افسوس باقی رہ جاتا ہے۔ چند دنوں میں لوگ اس واقعے کو بھول جائیں گے مگر جن معصوم اور بیگناہ لوگوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا، ان کا خاندان یہ کبھی بھلا نہیں سکے گا۔ ہم کچھ عرصے بعد پھر کوئی ایسی خبر سن رہے ہوں گے کیونکہ ہمارے ہاں حکومت یا ارباب اختیار کو کٹہرے میں تو کوئی کھڑا کر نہیں سکتا۔

ان میں ایک ماں، ایک باپ، ایک بھائی، ایک بیٹا تھے۔ ان کی موت ہم سے سوال کر رہی ہے کہ ہم کیوں خاموش ہیں؟ کیا ہم نے دیکھا سنا اور سن کر ان سے سوال کیا جن کی خاموشی اور بے حسی کی بدولت یہ واقعہ رونما ہوا۔ ہماری ریاست کا چلن ہے، وہ طاقتور کے لیے تو کچھ بھی کر گزرے مگر عام آدمی کے لیے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ ابھی بھی حکومت نے افسوس کا اظہار کیا اور بس ان کی نظر میں ان کی ذمے داری پوری ہوگئی۔ ریاست کا کام ہے کہ وہ عوام کے لیے ہر وقت اور ہر حال میں موجود رہے اور اپنی ذمے داری کو نبھائے۔ حکومت ذمے دار ہوتی ہے اور ریاستی مشین کو عوام کے لیے ہر حال میں حرکت کرنا چاہیے۔

ہم جانتے ہیں کہ فلڈ الرٹس سسٹم موجود ہے، ڈرون موجود ہیں، ہیلی کاپٹر موجود ہیں لیکن یہ سب اس دن کہاں تھے؟ کیونکہ جب کوئی سرکاری اہمیت کا معاملہ ہوتا ہے تو یہ سب فوراً حرکت میں آجاتے ہیں، طاقتور کی پکار ہوتی ہے عوام کی نہیں۔ لوگ کچھ دن اس سانحے پہ بات کریں گے اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس خاموشی کو قبول کرلیا ہے؟ کیونکہ اگر ہم نے قبول کر لیا ہے تب ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ ہمارے ساتھ یہی سب ہوگا، اگر ہمارے پاس ریاست ہے تو ریاست کی کچھ ذمے داری ہوتی ہے اور آج پاکستانی عوام اپنی ریاست اور ارباب اختیار سے سوال کررہے ہیں کہ جب عوام کو اس کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ تب کہاں ہوتے ہیں۔

یہ کالم ایک احتجاج ہے یہ سوال ہے ریاست سے، سماج سے، ہم سب سے کہ آخر یہ بے حسی، یہ ظلم کب تک۔ریاست کو ہمارے سوالوں کا جواب دینا ہوگا اور اپنی ذمے داری نبھانی ہوگی، ہم کب تک لاوارث ہو کر جیئیں۔ ورنہ ہم ایک بے عمل ریاست کے زیر سایہ جیتے رہیں گے، وہ ریاست جو الفاظ میں تو موجود ہے مگر عمل کی دنیا میں کہیں کھو گئی ہے۔ 

وہ ریاست جو سترہ لوگوں کو ڈوبتا دیکھتی ہے اور اپنا سر جھکائے بیان دے دیتی ہے لیکن پھر چپ ہو جاتی ہے، یہ ریاست خود کو بچانا جانتی ہے مگر عوام کو خطرہ میں چھوڑ دیتی ہے۔اگر ہم نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں اس خاموشی کے بیچ بولنا ہوگا، سوال کرنا ہوگا، اداروں کو ذمے دار ٹھہرانا ہوگا اور انصاف کے لیے لڑنا ہوگا۔ ہم صرف مایوس ہوکر نہیں رہ سکتے، ہماری ریاست زندہ ہے یا مردہ ہمارے درد اور خوشی میں ہماری ساتھ ہے یا نہیں۔

ہمارا حق ہے کہ ہم سوال کریں اور انصاف مانگیں ریاست کی خاموشی ناقابل قبول ہے، اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ آیندہ کوئی ایسا سانحہ نہ ہو تو ریاست کو اور ارباب اختیار کو جواب دینا ہوگا اور عوام کے لیے اپنی ذمے داری کو بہ خوبی نبھانا ہوگا۔ کیا ہم واقعی اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ بے گناہوں کے جنازے بھی ہماری بے حسی کو نہیں ہلا سکتے۔ کیا ان گھروں کے سناٹے کو ہم سننے کے قابل نہیں رہے جہاں ایک ہی وقت میں سترہ پیارے پانی کا ریلہ بہا کر لے گیا ہو اور وہ بھی ان کے پیاروں کی آنکھوں کے سامنے۔

میں سوچتی ہوں جب وہ پانی کے بیچ کھڑے سترہ لوگ آخری لمحوں میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ رہے تھے تو کیا ان کے دل میں یہ خیال آیا ہوگا کہ ریاست انھیں بچانے آرہی ہے یا شاید وہ جان چکے تھے کہ کوئی نہیں آئے گا۔ یہ المناک واقعہ ایک آئینہ ہے ہمارے نظام کا، ہماری حکومت کا، ہمارے ضمیر کا۔ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کیا ہم واقعی ایک ریاست رکھتے ہیں؟ یا ہماری ریاست صرف طاقتور اور بااثر لوگوں کے لیے ہے، عام لوگوں کے لیے نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور ارباب اختیار ریاست کی ہوتی ہے سوال کر سے سوال ہے اور اگر ہم ہیں کہ کیا ہم

پڑھیں:

پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 2 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کی ٹرافی کی باضابطہ رونمائی کر دی گئی۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے کپتان روومن پاول نے مشترکہ طور پر سیریز کی ٹرافی کی نقاب کشائی کی۔ تقریب ٹرینیڈاڈ میں واقع برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں منعقد ہوئی، جہاں دونوں کپتانوں نے ٹرافی کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔

پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز

پاکستان اور ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کے ٹرافی کی رونمائی کر دی گئی

کپتان بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے ٹیسٹ سیریز کے ٹرافی کی رونمائی کی

ٹرافی کی رونمائی برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کی گئی

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 25… pic.twitter.com/jw64f4bqZp

— PCB Media (@TheRealPCBMedia) July 24, 2026

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ 25 جولائی سے شروع ہوگا۔ دونوں ٹیمیں سیریز کے آغاز سے قبل اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہیں اور شائقین کو دلچسپ مقابلوں کی توقع ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ سیریز نہ صرف آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے بلکہ نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی شائقین کی توجہ کا مرکز رہے گی۔ پاکستانی ٹیم سیریز میں عمدہ آغاز کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جبکہ میزبان ٹیم بھی ہوم گراؤنڈ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

برائن لارا پاکستان ٹرافی ٹیسٹ سیریز ویسٹ انڈیز

متعلقہ مضامین

  • پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان