اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے اس ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور مسلمانوں کیساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے، ایکٹ کے آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست کرناٹک کے اڈوپی قصبہ میں مسلمانوں نے نئے وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف انسانی زنجیر بنا کر مظاہرہ کیا، جس میں مودی حکومت سے حالیہ ترامیم کو واپس لینے کی اپیل کی گئی۔ یہ زنجیر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ملک گیر مظاہرہ کا حصہ تھی۔ اُڈوپی جامع مسجد اور اُڈوپی انجمن مسجد کے مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے اس مظاہرے نے شرکاء کی ایک بڑی بھیڑ کو اپنی طرف متوجہ کیا جو نئے وقف قانون کی سخت مخالفت کا اظہار کرنے کے لئے جمع ہوئے۔ "وقف کا دفاع، دین کا دفاع کریں"، "وقف کی سیاست کرنا بند کرو" اور "بھارت وقف ترمیمی ایکٹ کو مسترد کرتا ہے" جیسے پیغامات والے پلے کارڈز اٹھائے مظاہرین نے اڈوپی میں جامع مسجد اور انجمن مسجد کے قریب انسانی زنجیریں بنائیں۔ اسی طرح کے مظاہرے برہماگیری، نیئر کیرے، کولمبے، نیجر اور ہوڈے میں بھی کئے گئے، جو وقف ترمیمی بل کے خلاف وسیع پیمانے پر اختلاف کو ظاہر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ کہ وقف (ترمیمی) بل 2025ء جس کا مقصد وقف ایکٹ 1995ء میں ترمیم کرنا تھا، گرما گرم بحث کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کر لیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ اگلے دن کی صبح لوک سبھا میں اسے منظور کیا گیا۔ یہاں 288 ارکان نے اس کی حمایت کی اور 232 نے مخالفت کی۔ اس ایکٹ نے پورے ہندوستان میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کو جنم دیا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں اور اپوزیشن گروپوں کے خدشات ہیں جو اسے امتیازی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے اس ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ نئے وقف (ترمیمی) ایکٹ کے آئینی جواز کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں میں سیاسی جماعتیں جیسے کانگریس، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین، آئی یو ایم ایل، ڈی ایم کے، سی پی آئی، سی پی ایم، عام آدمی پارٹی، وائی ایس آر سی پی، اور تاملگا ویٹری کزگم، آل انڈیا مسلم تنظیم کے سربراہ اور مسلم قانون ساز بورڈ کے ساتھ جماعت اسلامی ہند اور ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) بھی شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے اور مسلم ایکٹ کے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن