مقررین نے کہا کہ وقف ایکٹ میں کی گئی ترمیمات نہ صرف مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر حملہ ہیں بلکہ یہ ہندوستان کے سیکولر آئینی ڈھانچے اور سماجی انصاف کے اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست تمل ناڈو کے مختلف علاقوں میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف مسلمانوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ضلع تروپتور کے شہر وانمباڑی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، جوائنٹ کمیٹی، سیاسی جماعتوں، اسلامی فیڈریشنز اور مقامی سماجی کارکنوں نے مشترکہ طور پر ایک احتجاجی اجلاس منعقد کیا، جس میں مودی حکومت کے منظور کردہ نئے قانون کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس اجلاس میں مقررین نے کہا کہ وقف ایکٹ میں کی گئی ترمیمات نہ صرف مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر حملہ ہیں بلکہ یہ ہندوستان کے سیکولر آئینی ڈھانچے اور سماجی انصاف کے اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ ترمیمی قانون کا مقصد وقف جائیدادوں کو صنعت کاروں اور کارپوریٹ اداروں کے حوالے کرنا ہے، جو ایک خطرناک رجحان ہے۔

اجلاس کی صدارت وانمباڑی جوائنٹ کمیٹی کے صدر سی ایم وسیم احمد، تروپتور کے ضلعی قاضی مولانا سید عبدالرحمن، جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی صدر مولانا مفتی سبیل احمد، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مفتی رحمت اللہ اور دیگر اہم رہنماؤں نے کی۔ ان کے علاوہ جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری محمد ارشاد خان، جمعیت اہلحدیث کے ریاستی صدر انیس الرحمن، جمعیۃ علماء ہند کے شہری صدر مفتی انعام الحق اور مفتی اقبال احمد بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں شامل خصوصی مہمانوں میں ہیومنسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر ایم تمیمون انصاری، سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم، رکن پارلیمان ٹی ایم کتھر آنند اور کرناٹک اسٹیٹ جمعیۃ علماء کے صدر افتخار احمد بھی شامل تھے، جنہوں نے اپنے خطابات میں ترمیمی قانون کو اقلیتوں کے خلاف ایک منظم چال قرار دیا۔

کانگریس لیڈر ایڈووکیٹ سید برہان الدین، جو آل انڈیا کسان کانگریس کے نیشنل جوائنٹ کوآرڈینیٹر بھی ہیں، نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ نیا قانون وقف بورڈز کو غیر معمولی اختیارات دیتا ہے، جس سے جائیدادوں پر قبضے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ قانون واپس لے تاکہ ملک میں سماجی توازن اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رہے۔ احتجاجی اجلاس میں بڑی تعداد میں عوام، سیاسی کارکنان اور مختلف تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ مظاہرین نے نعرے بازی کے ذریعے اپنے غصے اور عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر وقف جائیدادوں کو کارپوریٹ کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔ وانمباڑی کی جوائنٹ کمیٹی نے اعلان کیا کہ وہ ملک بھر میں اس قانون کے خلاف بیداری مہم اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی تاکہ اقلیتی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اجلاس میں کے خلاف

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی