ٹرمپ نے ٹیکسوں اور اخراجات میں کمی کے بل پر دستخط کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 جولائی 2025ء) صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر یہ مالیاتی پیکج اتنا اہم تھا کہ انہوں نے اسے امریکی کانگریس سے منظور کروانے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں کامیاب بھی رہے۔ ان کوششوں کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ پر مشتمل کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کے اراکین نے تقریباﹰ متفقہ طور پر اس قانونی بل کی حمایت کی تھی اور مستقبل میں یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران کیے گئے اہم ترین سیاسی مالیاتی فیصلوں میں شمار کیا جائے گا۔
یوکرین جنگ: پوٹن کے ساتھ بات چیت میں پیشرفت نہ ہو سکی، ٹرمپ
صدر ٹرمپ، جنھوں نے اس بل کو ''ایک بڑا اور خوبصورت بل‘‘ قرار دے رکھا ہے، نے وائٹ ہاؤس میں جب اس مسودہ قانون پر دستخط کیے، تو ان کی کابینہ اکے اراکین ورکانگریس میں ریپبلکن نمائندگان بھی ان کے ارد گرد کھڑے تھے۔
(جاری ہے)
کئی ٹریلین ڈالر کا مالیاتی پیکجٹیکسوں اور اخراجات میں کمی کے اس پیکج کی مالیت کئی ٹریلین ڈالر بنتی ہے۔
صدر ٹرمپ اس پیکج کو ملکی کانگریس سے ایک ایسے وقت پر منظور کروانے میں کامیاب رہے، جب قانون سازی کی اس کوشش کے دوران کئی مرتبہ اس بل کی منظوری تقریباﹰ ناممکن نظر آتی تھی۔ٹرمپ کی پیش کردہ جنگ بندی کی ’حتمی‘ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، حماس
اس کے علاوہ اپنی پارلیمانی منظوری اور پھر باقاعدہ قانون بننے سے پہلے اس مسودہ قانون نے امریکہ کو سیاسی حوالے سے واضح طور پر تقسیم بھی کر دیا تھا اور بہت سے ماہرین اسے واضح طور پر متنازعہ اور غیر منصفانہ بھی قرار دے رہے تھے۔
لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے، جنہوں نے اس بل پر دستخطوں کے لیے خود ہی اپنے لیے چار جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی تھی، ابھی جمعرات تین جولائی کے روز ہی اس بل کو کانگریس سے حتمی طور پر منظور کروایا تھا۔پھر کانگریس سے منظوری کے اگلے ہی روز صدر ٹرمپ کے دستخطوں سے یہ بل امریکی یوم آزادی کے موقع پر باقاعدہ قانون بھی بن گیا۔
دستخطوں کے بعد صدر ٹرمپ نے کیا کہا؟ٹیکسوں اور ریاستی اخراجات میں کمی کے اس بہت بڑے مالیاتی پیکج کے مسودہ قانون پر اپنے دستخطوں کے بعد امریکی صدر نے کہا، ''امریکہ جیت رہا ہے، اور ایسے جیت رہا ہے، جیسے آج سے پہلے امریکہ کبھی نہیں جیتا تھا۔
‘‘امریکی غیر ملکی امداد میں کٹوتی سے 14 ملین اموات کا خطرہ، رپورٹ
ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا، ''وعدے کیے گئے، وعدے پورے کیے گئے، ہم نے اپنے وعدے پورے کر دیے۔‘‘
مختلف خبر رساں اداروں نے اس بارے میں اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ امریکی بجٹ سے متعلق اس انتہائی کلیدی نوعیت کی قانون سازی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور صدر آج تک کی اہم ترین سیاسی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔
مالیاتی پیکج میں ہے کیا؟اس پیکج میں صدر ٹرمپ نے عملی طور پر جو کچھ کر دکھایا ہے، اس میں ان کے وہ انتخابی وعدے بھی شامل ہیں، جو انہوں نے اپنی گزشتہ صدارتی مہم کے دوران امریکی ووٹروں سے کیے تھے۔
نیویارک میئر الیکشن: ٹرمپ نوجوان مسلم امیدوار پر برہم کیوں؟
ان میں مثال کے طور پر یہ بھی شامل ہے کہ ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کارکنوں کو ملنے والی ٹپ پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔
اسی طرح سوشل سکیورٹی کی مد میں عام شہریوں یا قانونی طور پر امریکہ میں مقیم غیر ملکیوں کو ہونے والی آمدنی پر بھی کوئی ٹیکس ادا کرنا ضروری نہیں ہو گا۔اس بل پر دستخطوں کے بعد صدر ٹرمپ نے ریپبلکن اراکین کانگریس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ''اس قانون سازی کی وجہ سے ہمارا ملک اب اقتصادی طور پر ایک راکٹ شپ بن جائے گا۔‘‘
ناقدین کا موقفاس نئے قانون کے تحت امریکہ میں بہت سے باشندوں کو ملنے والی طبی امداد یا Medicaid اور ضرورت مند افراد کو اشیائے خوراک کی خریداری کے لیے دی جانے والی فوڈ اسٹیمپس میں کمی بھی کر دی جائے گی۔
امریکہ: ڈونلڈ ٹرمپ کی ’تباہ کُن پالیسیوں‘ کے خلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر
یہی وجہ ہے کہ بل کے ناقدین کے مطابق اس نئے قانون سے زیادہ فائدہ امراء کو ہو گا جبکہ کم آمدنی والے کئی ملین امریکی باشندوں کو اپنی ہیلتھ انشورنس، خوراک کی صورت میں ریاستی امداد اور مالیاتی استحکام کے حوالے سے تنزلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قطر میں امریکی ایئر بیس پر ایران کا حملہ ’علامتی‘، دفاعی ماہر
امریکی کانگریس کے غیر جانبدار 'اسکور کیپر‘ کے مطابق صرف اس نئے قانون کی وجہ سے امریکہ میں 17 ملین کارکنوں کو دستیاب طبی دیکھ بھال کی سہولیات ختم یا بہت کم ہو جائیں گی۔ دوسری طرف بہت امیر افراد اور بڑی بڑی کاروباری کارپوریشنوں کو ٹیکسوں میں ملنے والی چھوٹ اور زیادہ ہو جائے گی۔
اس بل پر ووٹنگ کے دوران کسی بھی ڈیموکریٹ رکن کانگریس نے اس مسودہ قانون کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا۔
امریکی کانگریس کے بجٹ آفس کے اندازوں کے مطابق صرف اس ایک پیکج کے باعث اگلی ایک دہائی میں امریکی بجٹ کے خسارے میں 3.
ادارت: شکور رحیم
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مالیاتی پیکج کانگریس سے دستخطوں کے ڈونلڈ ٹرمپ کے دوران ٹرمپ کی
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ