Express News:
2026-07-24@12:18:33 GMT

صدر ٹرمپ کی تباہ کن پالیسیاں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا کو روز ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے مخصوص ساتھی فیصلہ کرتے ہوئے امریکی آئین کا بھی خیال نہیں کرتے۔

امریکی نظام سے منحرف دانشور نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہر آنے والے امریکی صدر نے کانگریس کی منظوری کے بغیر دیگر ممالک پر حملے کیے ہیں مگر صدر ٹرمپ ان سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے کے بیانیے پر قائم ہیں۔ ایرانی حکومت کا علیحدہ مؤقف ہے مگر اگر امریکی حملہ کے نتیجے میں تابکاری کے اثرات پھیلتے تو صرف ایران ہی نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ترکی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی اس سے متاثر ہوتے۔

صدر ٹرمپ جب اقتدار میں آئے تو غزہ میں حماس کی مزاحمت جاری تھی۔ اسرائیل اپنی مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود غزہ پر قبضہ نہیں کر پا رہا تھا۔ صدر ٹرمپ کے لیے اسرائیل کی ناکامی ناقابلِ برداشت تھی۔

صدر ٹرمپ نے ایک طرف تو اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد میں اضافہ کیا اور جب سلامتی کونسل میں اسرائیل کی مذمت اور جنگ بندی کی قراردادیں پیش ہوئیں تو امریکا نے اسے ویٹو کردیا۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی امریکی یونیورسٹیوں میں ایک آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد امریکا کی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں مظاہروں کو ختم کرنا اور غزہ کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ اور اساتذہ کو عبرت کا نشان بنانا تھا۔

امریکا کے آئین میں کی گئی پہلی ترمیم کے تحت امریکا کے شہریوں کے آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ امریکی آئین کی اسی شق کے تحت امریکا کی یونیورسٹیوں میں علمی آزادی Academic Freedom کا ادارہ انتہائی مستحکم ہوا تھا مگر صدر ٹرمپ نے علمی آزادی کے ادارے کو ختم کرنے کے لیے دنیا کی مشہور ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی میں دی جانے ولی گرانٹ کو معطل کردیا۔ امریکی حکومت نے دیگر یونیورسٹیوں پر دباؤ ڈالا کہ فلسطین کی حمایت کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے، پھر ان تمام غیر ملکی طلبہ کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

ان طلبہ کو امریکی پولیس نے ہراساں کیا اور انھیں جلاوطن کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان میں سے ایک فلسطینی نژاد محمد خلیل بھی تھے۔ محمد خلیل نے امریکا کی مختلف یونیورسٹیوں میں غزہ پر اسرائیل کے حملہ کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

محمد خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، وہ امریکا میں Parmenent Resident ہیں۔ محمد خلیل کی شادی امریکی شہری سے ہوئی ہے مگر محمد خلیل کو فیڈرل پولیس نے گرفتار کیا اور 104 دن انھیں کنسنٹریشن کیمپ میں رکھا گیا۔ محمد خلیل نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس کو انفورسمنٹ کنسنٹریشن کیمپ میں رکھا گیا۔ اس کیمپ میں ایک بیرک میں 70افراد قید تھے۔ اس میں لائٹیں دن را ت جلتی رہتی تھیں اورکسی شخص کی پرائیویسی کا تصور نہیں تھا۔ جب فیڈرل کورٹ نے محمد خلیل کی نظربندی کو غیر قانونی قرار دیا تو محمد خلیل کو رہائی ملی۔

 صدر ٹرمپ نے برسوں سے آباد غیر ملکی امیگرنٹس کو گرفتار کر کے ملک بدر کرنے کے احکامات دیے۔ امریکا سے آنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکا کی فیڈرل پولیس نے سڑکوں پر چلنے والے افراد تک کو گرفتار کرکے کنسنٹریشن کیمپوں میں بھیج دیا۔ امریکا دراصل غیر ملکی آبادکاروں کا ملک ہے۔

جب ایک چرچ کی خاتون پادری نے ان غیر ملکی شہریوں کے ملک بدری کے نقصانات بیان کیے اور امریکی حکومت کے اقدامات کو غیر انسانی قرار دیا تو صدر ٹرمپ نے اس پادری کی سب کے سامنے توہین کی۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کی غزہ میں جارحیت اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا۔ عدالت نے طویل سماعت کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ اسرائیل اور امریکا نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا، صدر ٹرمپ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا۔ انھوں نے عالمی عدالت انصاف کی تین خاتون ججوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے۔

 صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد یہ منصوبہ پیش کیا تھا کہ فلسطینی شہری غزہ کو خالی کردیں اور اس خوبصورت مقام پر ہاؤسنگ سوسائٹی اور ٹورسٹ ریزورٹ قائم کیے جائیں۔ صدر ٹرمپ کے اس خیال کو عملی شکل دی جائے تو فلسطینی ایک دفعہ پھر اپنے وطن کو چھوڑنے کے بعد بے گھر ہوجائیں گے، وہ ملکوں ملکوں پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔ امریکی اخبارات نے لکھا تھا کہ صدر ٹرمپ کے داماد رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

انھوں نے چند سال قبل غزہ کا دورہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ اپنے داماد کے اس آئیڈیے کو عملی شکل دینے کے لیے لاکھوں انسانوں کو قربان کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے ایک اخبار نے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے مابین ہونے والے معاہدے کی تفصیلات بھی ظاہرکر دی ہیں۔ اس معاہدے کے تحت غزہ کو تین عرب ممالک کی نگرانی میں دے دیا جائے گا۔ حماس کے حامیوں کو غزہ سے نکال دیا جائے گا۔ دنیا میں اس سے زیادہ غیر انسانی منصوبہ اورکیا ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آتے ہی مختلف امریکی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں یو ایس ایڈ کا ادارہ بھی شامل ہے۔ یو ایس ایڈ کا ادارہ دنیا کے بہت سے ممالک میں تعلیم ، صحت، صاف پانی اور کلائیمیٹ چینج جیسے منصوبوں کے لیے فنڈنگ فراہم کرتا تھا۔ یو ایس ایڈ کے تحت پاکستان میں 30 کے قریب پروجیکٹ پر کام ہو رہا تھا۔

ان پروجیکٹ کے بند ہونے سے جیکب آباد سمیت کئی شہروں میں صاف پانی کے پلانٹ بند ہوگئے۔ کئی تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو دی جانے والی امداد بند ہوگئی۔ اب اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانہ نے امریکا میں تعلیم کے حصول کے لیے ویزے حاصل کرنے والے طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اوپن کردیں، اگر کسی طالب علم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں ایسی پوسٹ وائرل ہوئی جس میں غزہ میں امریکی یا اسرائیلی مظالم کا ذکر ہو تو پھر متعلقہ طالب علم کے لیے ویزے کا حصول مشکل ہوجائے گا۔ صدر ٹرمپ نے نیویارک میئر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ظہرانی کو کمیونسٹ پاگل قرار دیتے ہوئے ایشیائی اور افریقی افراد سے ایک دفعہ پھر نفرت کا اظہارکیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یو ایس ایڈ کے تحت دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں ٹی بی کے خاتمہ کے پروجیکٹ چل رہے تھے جو اب بند ہوگئے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے تجارتی جنگ کو ایک نئی شکل دیدی۔ مختلف ممالک کی برآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا۔ امریکی حکومت کے اس فیصلے سے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک زیادہ متاثر ہوئے جو امریکا سے بارگیننگ کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ چین اور بھارت جن کا شمار دنیا کے چند بڑے صنعتی ممالک میں ہونے لگا ہے، ان ممالک نے امریکا کو ان کی شرائط پر ٹیرف کم کرنے پر مجبور کیا۔ صدر ٹرمپ کا اعلان تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو ختم کرائیں گے۔ یوکرین نے اسی بناء پر صدر ٹرمپ کو اس نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا تھا۔

اسی طرح صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی روزہ جنگ کو رکوانے کا سہرا بھی لیا مگر صدر ٹرمپ وزیراعظم مودی کو واشنگٹن میں پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں کرسکے۔ اب بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایسا ہی تناؤ ہے جیسا مئی کے مہینے میں تھا۔ صدر ٹرمپ نیو لبرل ازم کا سیاہ چہرہ ہیں۔ نیو لبرل ازم کا مطلب ہی سرمایہ دار ممالک کی دنیا بھر پر بالادستی ہے جو اس صدی میں سامراج کی نئی قسم ہے۔ حکومت پاکستان کو نئی صورتحال میں دوبارہ اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یونیورسٹیوں میں صدر ٹرمپ کے یو ایس ایڈ امریکا کی محمد خلیل غیر ملکی کے تحت اور اس کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی