Express News:
2026-06-03@04:45:12 GMT

صدر ٹرمپ کی تباہ کن پالیسیاں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا کو روز ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے مخصوص ساتھی فیصلہ کرتے ہوئے امریکی آئین کا بھی خیال نہیں کرتے۔

امریکی نظام سے منحرف دانشور نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہر آنے والے امریکی صدر نے کانگریس کی منظوری کے بغیر دیگر ممالک پر حملے کیے ہیں مگر صدر ٹرمپ ان سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے کے بیانیے پر قائم ہیں۔ ایرانی حکومت کا علیحدہ مؤقف ہے مگر اگر امریکی حملہ کے نتیجے میں تابکاری کے اثرات پھیلتے تو صرف ایران ہی نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ترکی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی اس سے متاثر ہوتے۔

صدر ٹرمپ جب اقتدار میں آئے تو غزہ میں حماس کی مزاحمت جاری تھی۔ اسرائیل اپنی مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود غزہ پر قبضہ نہیں کر پا رہا تھا۔ صدر ٹرمپ کے لیے اسرائیل کی ناکامی ناقابلِ برداشت تھی۔

صدر ٹرمپ نے ایک طرف تو اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد میں اضافہ کیا اور جب سلامتی کونسل میں اسرائیل کی مذمت اور جنگ بندی کی قراردادیں پیش ہوئیں تو امریکا نے اسے ویٹو کردیا۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی امریکی یونیورسٹیوں میں ایک آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد امریکا کی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں مظاہروں کو ختم کرنا اور غزہ کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ اور اساتذہ کو عبرت کا نشان بنانا تھا۔

امریکا کے آئین میں کی گئی پہلی ترمیم کے تحت امریکا کے شہریوں کے آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ امریکی آئین کی اسی شق کے تحت امریکا کی یونیورسٹیوں میں علمی آزادی Academic Freedom کا ادارہ انتہائی مستحکم ہوا تھا مگر صدر ٹرمپ نے علمی آزادی کے ادارے کو ختم کرنے کے لیے دنیا کی مشہور ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی میں دی جانے ولی گرانٹ کو معطل کردیا۔ امریکی حکومت نے دیگر یونیورسٹیوں پر دباؤ ڈالا کہ فلسطین کی حمایت کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے، پھر ان تمام غیر ملکی طلبہ کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

ان طلبہ کو امریکی پولیس نے ہراساں کیا اور انھیں جلاوطن کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان میں سے ایک فلسطینی نژاد محمد خلیل بھی تھے۔ محمد خلیل نے امریکا کی مختلف یونیورسٹیوں میں غزہ پر اسرائیل کے حملہ کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

محمد خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، وہ امریکا میں Parmenent Resident ہیں۔ محمد خلیل کی شادی امریکی شہری سے ہوئی ہے مگر محمد خلیل کو فیڈرل پولیس نے گرفتار کیا اور 104 دن انھیں کنسنٹریشن کیمپ میں رکھا گیا۔ محمد خلیل نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس کو انفورسمنٹ کنسنٹریشن کیمپ میں رکھا گیا۔ اس کیمپ میں ایک بیرک میں 70افراد قید تھے۔ اس میں لائٹیں دن را ت جلتی رہتی تھیں اورکسی شخص کی پرائیویسی کا تصور نہیں تھا۔ جب فیڈرل کورٹ نے محمد خلیل کی نظربندی کو غیر قانونی قرار دیا تو محمد خلیل کو رہائی ملی۔

 صدر ٹرمپ نے برسوں سے آباد غیر ملکی امیگرنٹس کو گرفتار کر کے ملک بدر کرنے کے احکامات دیے۔ امریکا سے آنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکا کی فیڈرل پولیس نے سڑکوں پر چلنے والے افراد تک کو گرفتار کرکے کنسنٹریشن کیمپوں میں بھیج دیا۔ امریکا دراصل غیر ملکی آبادکاروں کا ملک ہے۔

جب ایک چرچ کی خاتون پادری نے ان غیر ملکی شہریوں کے ملک بدری کے نقصانات بیان کیے اور امریکی حکومت کے اقدامات کو غیر انسانی قرار دیا تو صدر ٹرمپ نے اس پادری کی سب کے سامنے توہین کی۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کی غزہ میں جارحیت اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا۔ عدالت نے طویل سماعت کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ اسرائیل اور امریکا نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا، صدر ٹرمپ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا۔ انھوں نے عالمی عدالت انصاف کی تین خاتون ججوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے۔

 صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد یہ منصوبہ پیش کیا تھا کہ فلسطینی شہری غزہ کو خالی کردیں اور اس خوبصورت مقام پر ہاؤسنگ سوسائٹی اور ٹورسٹ ریزورٹ قائم کیے جائیں۔ صدر ٹرمپ کے اس خیال کو عملی شکل دی جائے تو فلسطینی ایک دفعہ پھر اپنے وطن کو چھوڑنے کے بعد بے گھر ہوجائیں گے، وہ ملکوں ملکوں پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔ امریکی اخبارات نے لکھا تھا کہ صدر ٹرمپ کے داماد رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

انھوں نے چند سال قبل غزہ کا دورہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ اپنے داماد کے اس آئیڈیے کو عملی شکل دینے کے لیے لاکھوں انسانوں کو قربان کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے ایک اخبار نے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے مابین ہونے والے معاہدے کی تفصیلات بھی ظاہرکر دی ہیں۔ اس معاہدے کے تحت غزہ کو تین عرب ممالک کی نگرانی میں دے دیا جائے گا۔ حماس کے حامیوں کو غزہ سے نکال دیا جائے گا۔ دنیا میں اس سے زیادہ غیر انسانی منصوبہ اورکیا ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آتے ہی مختلف امریکی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں یو ایس ایڈ کا ادارہ بھی شامل ہے۔ یو ایس ایڈ کا ادارہ دنیا کے بہت سے ممالک میں تعلیم ، صحت، صاف پانی اور کلائیمیٹ چینج جیسے منصوبوں کے لیے فنڈنگ فراہم کرتا تھا۔ یو ایس ایڈ کے تحت پاکستان میں 30 کے قریب پروجیکٹ پر کام ہو رہا تھا۔

ان پروجیکٹ کے بند ہونے سے جیکب آباد سمیت کئی شہروں میں صاف پانی کے پلانٹ بند ہوگئے۔ کئی تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو دی جانے والی امداد بند ہوگئی۔ اب اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانہ نے امریکا میں تعلیم کے حصول کے لیے ویزے حاصل کرنے والے طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اوپن کردیں، اگر کسی طالب علم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں ایسی پوسٹ وائرل ہوئی جس میں غزہ میں امریکی یا اسرائیلی مظالم کا ذکر ہو تو پھر متعلقہ طالب علم کے لیے ویزے کا حصول مشکل ہوجائے گا۔ صدر ٹرمپ نے نیویارک میئر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ظہرانی کو کمیونسٹ پاگل قرار دیتے ہوئے ایشیائی اور افریقی افراد سے ایک دفعہ پھر نفرت کا اظہارکیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یو ایس ایڈ کے تحت دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں ٹی بی کے خاتمہ کے پروجیکٹ چل رہے تھے جو اب بند ہوگئے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے تجارتی جنگ کو ایک نئی شکل دیدی۔ مختلف ممالک کی برآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا۔ امریکی حکومت کے اس فیصلے سے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک زیادہ متاثر ہوئے جو امریکا سے بارگیننگ کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ چین اور بھارت جن کا شمار دنیا کے چند بڑے صنعتی ممالک میں ہونے لگا ہے، ان ممالک نے امریکا کو ان کی شرائط پر ٹیرف کم کرنے پر مجبور کیا۔ صدر ٹرمپ کا اعلان تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو ختم کرائیں گے۔ یوکرین نے اسی بناء پر صدر ٹرمپ کو اس نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا تھا۔

اسی طرح صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی روزہ جنگ کو رکوانے کا سہرا بھی لیا مگر صدر ٹرمپ وزیراعظم مودی کو واشنگٹن میں پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں کرسکے۔ اب بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایسا ہی تناؤ ہے جیسا مئی کے مہینے میں تھا۔ صدر ٹرمپ نیو لبرل ازم کا سیاہ چہرہ ہیں۔ نیو لبرل ازم کا مطلب ہی سرمایہ دار ممالک کی دنیا بھر پر بالادستی ہے جو اس صدی میں سامراج کی نئی قسم ہے۔ حکومت پاکستان کو نئی صورتحال میں دوبارہ اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یونیورسٹیوں میں صدر ٹرمپ کے یو ایس ایڈ امریکا کی محمد خلیل غیر ملکی کے تحت اور اس کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان