Express News:
2026-07-24@06:18:02 GMT

صدر ٹرمپ کی تباہ کن پالیسیاں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا کو روز ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے مخصوص ساتھی فیصلہ کرتے ہوئے امریکی آئین کا بھی خیال نہیں کرتے۔

امریکی نظام سے منحرف دانشور نوم چومسکی کا کہنا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہر آنے والے امریکی صدر نے کانگریس کی منظوری کے بغیر دیگر ممالک پر حملے کیے ہیں مگر صدر ٹرمپ ان سب سے آگے نکل گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے کے بیانیے پر قائم ہیں۔ ایرانی حکومت کا علیحدہ مؤقف ہے مگر اگر امریکی حملہ کے نتیجے میں تابکاری کے اثرات پھیلتے تو صرف ایران ہی نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ ترکی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بھی اس سے متاثر ہوتے۔

صدر ٹرمپ جب اقتدار میں آئے تو غزہ میں حماس کی مزاحمت جاری تھی۔ اسرائیل اپنی مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود غزہ پر قبضہ نہیں کر پا رہا تھا۔ صدر ٹرمپ کے لیے اسرائیل کی ناکامی ناقابلِ برداشت تھی۔

صدر ٹرمپ نے ایک طرف تو اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد میں اضافہ کیا اور جب سلامتی کونسل میں اسرائیل کی مذمت اور جنگ بندی کی قراردادیں پیش ہوئیں تو امریکا نے اسے ویٹو کردیا۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی امریکی یونیورسٹیوں میں ایک آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد امریکا کی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں مظاہروں کو ختم کرنا اور غزہ کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ اور اساتذہ کو عبرت کا نشان بنانا تھا۔

امریکا کے آئین میں کی گئی پہلی ترمیم کے تحت امریکا کے شہریوں کے آزادئ اظہار اور آزادئ صحافت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ امریکی آئین کی اسی شق کے تحت امریکا کی یونیورسٹیوں میں علمی آزادی Academic Freedom کا ادارہ انتہائی مستحکم ہوا تھا مگر صدر ٹرمپ نے علمی آزادی کے ادارے کو ختم کرنے کے لیے دنیا کی مشہور ہارورڈ اور کولمبیا یونیورسٹی میں دی جانے ولی گرانٹ کو معطل کردیا۔ امریکی حکومت نے دیگر یونیورسٹیوں پر دباؤ ڈالا کہ فلسطین کی حمایت کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا جائے، پھر ان تمام غیر ملکی طلبہ کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

ان طلبہ کو امریکی پولیس نے ہراساں کیا اور انھیں جلاوطن کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان میں سے ایک فلسطینی نژاد محمد خلیل بھی تھے۔ محمد خلیل نے امریکا کی مختلف یونیورسٹیوں میں غزہ پر اسرائیل کے حملہ کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

محمد خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، وہ امریکا میں Parmenent Resident ہیں۔ محمد خلیل کی شادی امریکی شہری سے ہوئی ہے مگر محمد خلیل کو فیڈرل پولیس نے گرفتار کیا اور 104 دن انھیں کنسنٹریشن کیمپ میں رکھا گیا۔ محمد خلیل نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس کو انفورسمنٹ کنسنٹریشن کیمپ میں رکھا گیا۔ اس کیمپ میں ایک بیرک میں 70افراد قید تھے۔ اس میں لائٹیں دن را ت جلتی رہتی تھیں اورکسی شخص کی پرائیویسی کا تصور نہیں تھا۔ جب فیڈرل کورٹ نے محمد خلیل کی نظربندی کو غیر قانونی قرار دیا تو محمد خلیل کو رہائی ملی۔

 صدر ٹرمپ نے برسوں سے آباد غیر ملکی امیگرنٹس کو گرفتار کر کے ملک بدر کرنے کے احکامات دیے۔ امریکا سے آنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکا کی فیڈرل پولیس نے سڑکوں پر چلنے والے افراد تک کو گرفتار کرکے کنسنٹریشن کیمپوں میں بھیج دیا۔ امریکا دراصل غیر ملکی آبادکاروں کا ملک ہے۔

جب ایک چرچ کی خاتون پادری نے ان غیر ملکی شہریوں کے ملک بدری کے نقصانات بیان کیے اور امریکی حکومت کے اقدامات کو غیر انسانی قرار دیا تو صدر ٹرمپ نے اس پادری کی سب کے سامنے توہین کی۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کی غزہ میں جارحیت اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا۔ عدالت نے طویل سماعت کے بعد اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی جرائم کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ اسرائیل اور امریکا نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا، صدر ٹرمپ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا۔ انھوں نے عالمی عدالت انصاف کی تین خاتون ججوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے۔

 صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد یہ منصوبہ پیش کیا تھا کہ فلسطینی شہری غزہ کو خالی کردیں اور اس خوبصورت مقام پر ہاؤسنگ سوسائٹی اور ٹورسٹ ریزورٹ قائم کیے جائیں۔ صدر ٹرمپ کے اس خیال کو عملی شکل دی جائے تو فلسطینی ایک دفعہ پھر اپنے وطن کو چھوڑنے کے بعد بے گھر ہوجائیں گے، وہ ملکوں ملکوں پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے۔ امریکی اخبارات نے لکھا تھا کہ صدر ٹرمپ کے داماد رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہیں۔

انھوں نے چند سال قبل غزہ کا دورہ کیا تھا۔ صدر ٹرمپ اپنے داماد کے اس آئیڈیے کو عملی شکل دینے کے لیے لاکھوں انسانوں کو قربان کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کے ایک اخبار نے صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے مابین ہونے والے معاہدے کی تفصیلات بھی ظاہرکر دی ہیں۔ اس معاہدے کے تحت غزہ کو تین عرب ممالک کی نگرانی میں دے دیا جائے گا۔ حماس کے حامیوں کو غزہ سے نکال دیا جائے گا۔ دنیا میں اس سے زیادہ غیر انسانی منصوبہ اورکیا ہوسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آتے ہی مختلف امریکی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس میں یو ایس ایڈ کا ادارہ بھی شامل ہے۔ یو ایس ایڈ کا ادارہ دنیا کے بہت سے ممالک میں تعلیم ، صحت، صاف پانی اور کلائیمیٹ چینج جیسے منصوبوں کے لیے فنڈنگ فراہم کرتا تھا۔ یو ایس ایڈ کے تحت پاکستان میں 30 کے قریب پروجیکٹ پر کام ہو رہا تھا۔

ان پروجیکٹ کے بند ہونے سے جیکب آباد سمیت کئی شہروں میں صاف پانی کے پلانٹ بند ہوگئے۔ کئی تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کو دی جانے والی امداد بند ہوگئی۔ اب اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانہ نے امریکا میں تعلیم کے حصول کے لیے ویزے حاصل کرنے والے طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اوپن کردیں، اگر کسی طالب علم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں ایسی پوسٹ وائرل ہوئی جس میں غزہ میں امریکی یا اسرائیلی مظالم کا ذکر ہو تو پھر متعلقہ طالب علم کے لیے ویزے کا حصول مشکل ہوجائے گا۔ صدر ٹرمپ نے نیویارک میئر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار ظہرانی کو کمیونسٹ پاگل قرار دیتے ہوئے ایشیائی اور افریقی افراد سے ایک دفعہ پھر نفرت کا اظہارکیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یو ایس ایڈ کے تحت دنیا بھر کے مختلف علاقوں میں ٹی بی کے خاتمہ کے پروجیکٹ چل رہے تھے جو اب بند ہوگئے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے تجارتی جنگ کو ایک نئی شکل دیدی۔ مختلف ممالک کی برآمدات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا۔ امریکی حکومت کے اس فیصلے سے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک زیادہ متاثر ہوئے جو امریکا سے بارگیننگ کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ چین اور بھارت جن کا شمار دنیا کے چند بڑے صنعتی ممالک میں ہونے لگا ہے، ان ممالک نے امریکا کو ان کی شرائط پر ٹیرف کم کرنے پر مجبور کیا۔ صدر ٹرمپ کا اعلان تھا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو ختم کرائیں گے۔ یوکرین نے اسی بناء پر صدر ٹرمپ کو اس نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا تھا۔

اسی طرح صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی روزہ جنگ کو رکوانے کا سہرا بھی لیا مگر صدر ٹرمپ وزیراعظم مودی کو واشنگٹن میں پاکستان سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں کرسکے۔ اب بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ایسا ہی تناؤ ہے جیسا مئی کے مہینے میں تھا۔ صدر ٹرمپ نیو لبرل ازم کا سیاہ چہرہ ہیں۔ نیو لبرل ازم کا مطلب ہی سرمایہ دار ممالک کی دنیا بھر پر بالادستی ہے جو اس صدی میں سامراج کی نئی قسم ہے۔ حکومت پاکستان کو نئی صورتحال میں دوبارہ اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: یونیورسٹیوں میں صدر ٹرمپ کے یو ایس ایڈ امریکا کی محمد خلیل غیر ملکی کے تحت اور اس کے لیے کے بعد

پڑھیں:

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ

صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔

مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔

مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی