چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ذاہد احمد بابر سدھو نے امریکا کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ اس دورے کا مقصد دو طرفہ دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا اور باہمی مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔

یہ پاکستان کسی ایئر چیف کا 11 سال سے زیادہ عرصے میں امریکا کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ دورے کے دوران چیف آف دی ایئر اسٹاف نے اعلیٰ امریکی فوجی اور سیاسی رہنماؤں سے متعدد اہم ملاقاتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ان کی خدمات جاری رکھنے کا فیصلہ

انہوں نے پینٹاگون میں سیکرٹری آف دی ایئر فورس (بین الاقوامی امور) مسز کیلی ایل۔ سیبولٹ اور چیف آف اسٹاف جنرل ڈیوڈ ڈبلیو۔ الوین سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ فوجی تعاون کو آگے بڑھانے، ہم آہنگی کو بہتر بنانے اور مشترکہ تربیت اور ٹیکنالوجی کے تبادلوں کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔

چیف آف دی ایئر اسٹاف نے پاکستان اور امریکا کے تاریخی اور کثیر الجہتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین فوجی تعاون اور تربیت کے شعبوں میں روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں فریقین نے مستقبل میں اعلیٰ سطح کی فوجی ملاقاتوں کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیے: فیلڈ مارشل کا دورہ امریکا، دفاعی بجٹ میں اضافہ اور سرینڈر مودی

اس کے علاوہ، ایئر چیف نے امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں بیورو آف پولیٹیکل-ملٹری افیئرز کے براون ایل۔ اسٹینلے اور بورو آف ساؤتھ اور سینٹرل ایشیا افیئرز کے ایرک مائر سے ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں پاکستان کے علاقائی استحکام میں مثبت کردار، دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے عزم اور جنوبی و وسطی ایشیا کی بدلتی ہوئی جیوپولیٹیکل صورت حال پر پاکستان کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کے لیے تھیں۔

کیپٹل ہِل پر اپنے اجلاسوں کے دوران، ایئر چیف نے معروف امریکی کانگریس کے ارکان جن میں مائیک ٹرنر، مسٹر رچ میک کورمک اور مسٹر بل ہوزینگا سے کیپٹل ہل میں اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد باہمی روابط کو مضبوط بنانے اور علاقائی سلامتی، خطے کے چیلنجز اور جدید ٹیکنالوجیز کے دفاعی شعبے پر اثرات کے بارے میں پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کرنا تھا۔ ان ملاقاتوں میں ایئر چیف نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں قربانیوں اور دفاعی کامیابیوں کا ذکر کیا، اور علاقائی جغرافیائی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں پاکستان کی سیکیورٹی حکمت عملی سے بھی انہیں آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا، ایئر چیف مارشل

یہ دورہ نہ صرف پاکستان ایئر فورس کے اس عزم کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی امن کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے بلکہ اس سے پاکستان اور امریکا کے ایئر فورسز کے مابین ادارہ جاتی تعاون، اسٹریٹجک بات چیت اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لیے بنیاد بھی رکھی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایئر چیف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایئر چیف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو ایئر چیف مارشل پاکستان کے آف دی ایئر کے لیے چیف آف

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان