ٹرمپ نے بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کر دیئے، غزہ میں جنگ بندی کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
صدر ٹرمپ نے سینیٹ اور ایوان نمائندان سے منظور ہونیوالے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کرکے ٹیکس میں کمی، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور امیگریشن پر سخت اقدامات کو قانون کا حصہ بنا دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق اپنے بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کر دیئے اور غزہ میں آئندہ ہفتے جنگ بندی کا بھی امکان ظاہر کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے سینیٹ اور ایوان نمائندان سے منظور ہونے والے ٹیکس اور اخراجات سے متعلق بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کرکے ٹیکس میں کمی، دفاعی اخراجات میں اضافہ اور امیگریشن پر سخت اقدامات کو قانون کا حصہ بنا دیا ہے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں فوجی خاندانوں کے ساتھ پکنک کے بعد فوجی افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ہفتے غزہ معاہدہ ہوسکتا ہے، غزہ سے متعلق بہت کچھ کرنا ہے، غزہ میں بہت سی امداد بھیج رہے ہیں، حماس کا غزہ جنگ بندی معاہدے پر مثبت جواب بہت اچھا اقدام ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام ختم کر دیا، ہر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ایران کے متعلق بات کروں گا، ایران کسی اور علاقے میں جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرسکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ افغانستان جنگ میں جانا ہماری تاریخ کا سیاہ دن تھا، افغانستان میں امریکا کے اربوں ڈالر ضائع ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سٹاک مارکیٹ آج بلند ترین سطح پر ہے، امریکا کو عظیم ترین بنائیں گے، امریکی فضائیہ نے چند روز قبل کامیاب آپریشن کیا، ہم نے امریکا کی طاقت کو بحال کیا، بائیڈن دور میں 21 ملین افراد غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہوئے، اب ہمارے بارڈرز پہلے سے زیادہ محفوظ ہیں۔ واضح رہے کہ حماس نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے، فلسطینی گروپوں سے مشاورت کے بعد امریکی ثالثی میں پیش کردہ غزہ جنگ بندی منصوبے پر اپنا مثبت جواب ثالثوں کے حوالے کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کر
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔