امریکی صدر ٹرمپ نے ٹیکس و اخراجات کے ’’بگ بیوٹی فل بل‘‘ پر دستخط کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹیکس و اخراجات سے متعلق ’’بگ بیوٹی فل بل‘‘ پر دستخط کر دیے، بگ بیوٹی فل بل کسی بھی ملک کی تاریخ کا بہترین قانون ہے جو معاشی ترقی کو آگے لے کر جاتا ہے۔
بگ بیوٹی فل بل پر دستخط کے موقع پر وائٹ ہاوس میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، فوجی افسران اور ارکانِ کانگریس نے شرکت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے حالیہ دنوں میں اپنی طاقت اور صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔چند روز قبل امریکی فوج نے ایران میں ایک کامیاب آپریشن کیا، جس میں ایرانی تنصیبات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بگ بیوٹی فل بل کی منظوری پر تمام امریکیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا، "یہ بل امریکی ترقی، دفاع اور معیشت کے استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔"
اپنی کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچی اور امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "ہم نے امریکا کی طاقت بحال کی اور اب اسے مزید جدید بنا رہے ہیں۔"
ٹرمپ نے افغانستان کی جنگ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "افغانستان جانا امریکا کا سیاہ ترین دن تھا۔ وہاں ہمارے اربوں ڈالر ضائع ہوئے۔"
اپنی مسلح افواج کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر نے کہا، "میں امریکی بری، بحری اور فضائی فوج سے محبت کرتا ہوں۔ ان کے افسران اور جوانوں کو میرا سلام۔"
انہوں نے نیٹو پر امریکی اخراجات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے امریکا کا 2 فیصد بجٹ نیٹو پر خرچ ہوتا تھا جو اب 5 فیصد تک بڑھ چکا ہے۔ انہوں نے اسے امریکا کی عالمی قیادت کی بحالی کا مظہر قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا، "سب کو میری طرف سے 4 جولائی کی خوشیاں مبارک ہوں۔ آج کا امریکا پہلے سے زیادہ محفوظ اور مضبوط ہے۔"
واضح رہے کہ امریکی سینیٹ کے بعد گزشتہ روز ایوان نمائندگان نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیکس اور اخراجات کا بل پاس کیا تھا۔ بل کے حق میں 218 اور مخالفت میں 214 ووٹ پڑے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے ہوئے کہا انہوں نے
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس