Jasarat News:
2026-06-03@03:17:39 GMT

ٹرمپ کا غزہ میں جلد جنگ بندی کا عندیہ، حماس کی آمادگی

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن/ مقبوضہ بیت المقدس: امریکی صدر نے غزہ میں جلد جنگ بندی کا عندیہ دیا ہے جب کہ دوسری جانب حماس نے بھی اس پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق واشنگٹن اور مقبوضہ بیت المقدس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق غزہ میں جاری خونریز جنگ کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ ہفتے جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا امکان ظاہر کیا ہے، جب کہ فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے قطر اور امریکا کی پیش کردہ تجاویز پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال پر سنجیدگی سے کام جاری ہے اور امریکا وہاں بڑے پیمانے پر انسانی امداد بھی بھیج رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے ایک معاہدہ ممکن ہے، جس سے خطے میں بہتری کی امید پیدا ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے حماس کی مذاکراتی خواہش کو خوش آئند اور مثبت اشارہ قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم سے ایران کے مسئلے پر بات چیت کا عندیہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام روک دیا گیا ہے، لیکن اب تہران ایک بار پھر اسے بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جس پر فوری بات چیت ناگزیر ہے۔

دوسری جانب حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق نئی تجاویز پر فوری طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ حماس نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ قطر اور مصر کی ثالثی میں پیش کردہ تجاویز پر مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور تنظیم نے ان تجاویز کو مثبت جواب دے دیا ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے ایک نئے اور سنجیدہ مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کو تیار ہے، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ سے ایک بڑا انسانی بحران جنم لے چکا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے لیے فریقین پر دباؤ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر