ضلع موسیٰ خیل اور بارکھان میں زلزلہ، 100 مکانات تباہ، 5افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل اور بارکھان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث مکانات منہدم ہونے سے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق موسیٰ خیل میں زلزلے کی شدت 5.5 اور گہرائی 28 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز موسیٰ خیل سے 56 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔
اسی طرح، بارکھان میں زلزلے کی شدت ریکٹل اسکیل پر 5.
ریسکیو ذرائع کے مطابق زلزلے کے باعث موسی خیل اور بارکھان کنگری میں 100سے زائد مکانات منہدم ہوئے۔ زلزلے کے باعث پانچ افراد زخمی جبکہ دو کی حالت نازک ہے۔
پی ڈی ایم اے ذرائع کے مطابق موسیٰ خیل اور بارکھان میں آنے والے زلزلے کے بعد علاقے میں امدادی کام شروع کر دیا گیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق نقصان کے اندازے کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں، زیادہ نقصان سے بچاؤ کے لیے خیمے روانہ کر دیے گئے ہیں۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان خیل اور بارکھان بارکھان میں کے مطابق زلزلے کے
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔