محرم الحرام اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، کوئٹہ کے علماء
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہلسنت اور اہل تشیع کے علماء نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے رفقاء کی عظیم قربانی تاریخ میں ہمیشہ ایک مشعل راہ ثابت ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ اہل سنت و اہل تشیع کے علمائے کرام اور بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ محرم الحرام اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ ذاکرین و علماء کرام ماہ مقدس میں فرقہ واریت کی بیخ کنی اور امت مسلمہ کو متحد رہنے کا پیغام دیں۔ عالم اسلام نے بیداری اور ٹیکنالوجی سےعالم کفر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محرم الحرام کے دوران سکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عالم دین ڈاکٹر عطاء الرحمٰن، پیرخالد سلطان القادری، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر عاشق حسین ہزارہ، امام جمعہ علامہ سید ہاشم موسوی ، قاری عبدالرحمٰن نورزئی، علامہ شہزاد عطاری، علامہ محمد موسیٰ حسینی، شیخ ولایت حسین جعفری اور دیگر نے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقاء کی عظیم قربانی تاریخ میں ہمیشہ ایک مشعل راہ ثابت ہوگی۔
انہوں نے اپنی قربانی سے تاقیامت یہ درس دیا کہ ظلم کا ساتھ دینا ظلم ہے۔ مقررین نے کہا کہ قرآن پاک میں ہے کہ کسی بھی فرد کو یہ اجازت نہیں کہ محرم کے مہینے میں کسی کا خون بہائے، لیکن دس محرم الحرام کو قرآن پاک کے اس حکم کو پامال کیا گیا۔ یزید ملعون نے اسلامی قوانین کی پامالی کی۔ جس پر حضرت امام حسین علیہ السلام نے فیصلہ کیا کہ ظلم کے ساتھ زندہ رہنا ظلم ہے اور دس محرم کو یہی ان کے خطاب کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کا مقدس مہینہ شروع ہے۔ اس ماہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے 72 رفقاء کو شہید کیا گیا۔ اس محرم میں ہمیں دنیا کو پیغام دینا ہے کہ امت مسلمہ متحد ہے۔ مسلمان متحد ہونگے تو طاغوتی طاقتیں ہم سے دور رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حضرت امام حسین علیہ السلام محرم الحرام نے کہا کہ کہ محرم
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔