چار محرم الحرام، لاہور میں 17 ماتمی جلوس برآمد ہوں گے جبکہ 400 مجالس منعقد ہوں گی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
آج صوبہ بھر میں مجالس اور عزاداری جلوسوں کے سکیورٹی انتظامات میں 17 ہزار سے زائد کمیونٹی رضا کار معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ عشرہ محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی، حکومت پنجاب کی طرف سے نافذ دفعہ 144 پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، نفرت آمیز مواد کی تشہیر، اشتعال انگیزی پر پابندی ہے۔ چارمحرم الحرام کی مناسبت سے لاہور سمیت صوبہ بھر میں 32 ہزار سے زائد افسران و اہلکار جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی سر انجام دے رہے ہیں، آج محرم الحرام پر صوبائی دارالحکومت لاہور میں 2800 سے زائد پولیس افسران و اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق صوبہ بھر میں آج 262 عزاداری جلوس، 3724 مجالس منعقد ہو رہی ہیں، لاہور میں آج 4 محرم الحرم کی مناسبت سے 17 عزاداری جلوس برآمد ہوں گے جبکہ 400 مجالس منعقد ہو رہی ہیں۔ آج صوبہ بھر میں مجالس اور عزاداری جلوسوں کے سکیورٹی انتظامات میں 17 ہزار سے زائد کمیونٹی رضا کار معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے کہ عشرہ محرم الحرام کے دوران صوبہ بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی، حکومت پنجاب کی طرف سے نافذ دفعہ 144 پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، ہوائی فائرنگ، اسلحہ کی نمائش، نفرت آمیز مواد کی تشہیر، اشتعال انگیزی پر پابندی ہے۔
آئی جی نے کہا کہ طے شدہ روٹس اور مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ جلوس اور مجالس کی اجازت نہیں ہوگی، سیف سٹیز اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے کیمروں کی مدد سے تمام سرگرمیوں کی مکمل مانیٹرنگ کی جائے گی، سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ٹریفک پولیس، ڈولفن سکواڈ، پیرو سمیت دیگر فیلڈ فارمیشنز محرم سکیورٹی پر تعینات ہیں۔ ڈاکٹر عثمان انور نے مزید بتایا کہ لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی پاسداری پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر کے مرتکب قانون شکن عناصر کی سرکوبی یقینی بنائیں، تمام اضلاع میں قائم کنٹرول رومز سنٹرل پولیس آفس کے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک، ہمہ وقت رابطہ میں ہونگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عزاداری جلوس محرم الحرام
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔