کراچی، 9 محرم مرکزی جلوس میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
مقررین نے کہا کہ مطالبہ کیا کہ بے گناہ مظلوموں کو جلد از جلد رہا کیا جائے، اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور انہیں اہنے دفاع کا حق دیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں نو محرم الحرام کے مرکزی جلوس عزاء میں جبری گمشدہ شیعہ عزاداران کے اہلخانہ نے اپنے پیاروں کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضاؑ کے سامنے نماز دوران مرکزی جلوس کے بعد جبری گمشدہ شیعہ افراد کے اہلخانہ کی جانب سے کئے گئے احتجاج میں مرد و خواتین، لاپتہ شیعہ افراد کے معصوم بچے بھی موجود تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں مجلس وحدت مسلمین کراچ کے صدر مولانا صادق جعفری، ہئیت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ کے مرکزی رہنما مولانا اصغر شہیدی، شیعہ علماء کونسل کراچی کے صدر مولانا بدر الحسنین عابدی و لاپتا شیعہ عزادار کے والد علمدار رضوی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر مولانا ڈاکٹر عقیل موسیٰ، مولانا باقر زیدی، علامہ مبشر حسن، سمیت ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے دیگر علماء کرام و رہنما بھی شریک تھے۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حسینؑ کے ماننے والوں نے سر کٹوائے، جیلیں کاٹیں، اسیر ہوئے، گھر چھوڑے، ہجرتیں کیں، شہادتوں کو گلے لگایا، لیکن کبھی بھی ظالموں سے مفاہمت نہیں کی، شیعہ قوم نہ اسیری و شہادتوں سے ڈرنے والی قوم ہے اور نہ ہی لاپتا و گمشدگی سے خوفزدہ۔ انہوں نے کہا کہ کئی کئی سالوں سے مائیں بہنیں و بیٹیاں اپنے لاپتا پیاروں کی تصاویر اٹھائے سراپا احتجاج بن کر عزاداران سید الشہداء (ع) کے سامنے بھی کھڑی ہیں اور ملک کی مقتدر قوتوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی۔ مقررین نے کہا کہ کئی کئی سالوں سے بے گناہ شیعہ جوانوں کو جبری گمشدہ کیا ہوا ہے، انکے بوڑھے والدین، بیویاں، بہنیں، بیٹیاں اپنے پیاروں کا انتظار کر رہے ہیں، انکا فقط ایک مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق عمل کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ ریاستی اداروں کے ساتھ ہمارے کئی مزاکرات بھی ہوئے، ہمیں یہ وعدہ بھی دیا گیا کہ ہم قانون کے مطابق عمل کرینگے، مظلوموں کو رہا کرینگے، لیکن وعدے پر عمل نہیں ہوا، پوری قوم مظلوموں کے ساتھ ہے۔
لاپتا شیعہ عزادار کے والد علمدار رضوی نے مطالبہ کیا کہ بے گناہ مظلوموں کو جلد از جلد رہا کیا جائے، اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور انہیں اہنے دفاع کا حق دیا جائے، اگر کوئی جبری گمشدہ شیعہ اسیر عزادار حراست میں شہید ہو گیا ہے تو کم از کم ہم ورثا کو لاش حوالے کی جائے۔ لاپتا شیعہ افراد کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے احتجاجی کیمپ میں علمائے کرام سمیت بڑی تعداد میں عزاداران امام حسینؑ نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقررین نے کہا کہ کے اہلخانہ کیا جائے
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔