Express News:
2026-06-03@04:37:05 GMT

میرا ملک میری عزت

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

’’ اس آدھے گھنٹے کی بارش نے تو دل ہی دہلا کر رکھ دیا تھا۔ خوف آ رہا تھا، حالاں کہ یہ تو اوپر والے کی رحمت ہے، لیکن کیا کریں کہ ہمارے شہر  میں زیادہ دیر بارش ہم افورڈ ہی نہیں کر سکتے۔‘‘

’’ یہاں کسی کوکیا پڑی ہے، سب کراچی کو لوٹ کر کھا رہے ہیں۔‘‘

’’بلکہ پورے ملک کو کھایا جا رہا ہے۔ ارے ہم کو ہی چن لیتے، کم ازکم ہم پورے شہر کے حالات سے تو واقف ہیں (قہقہہ) میں تو سڑکیں پہلے بنواتی، ارے بہت فنڈز ہیں۔ پیسے کم نہیں ہیں۔‘‘

’’پہلے ہی بجلی، گیس سے پریشان ہیں ہم۔ مہنگائی نے کمر توڑ رکھی ہے۔‘‘

دو نوکری سے لوٹنے والی خواتین کی عام سی گفتگو، لیکن بڑی گہری اور شاید کسی حد تک سچی بھی، ہم ایک طویل عرصے سے سنتے آئے ہیں کہ پاکستان کی مالی حالت کمزور ہے لیکن اس کمزوری کے راستوں سے ہم گزرتے ہی رہے ہیں اور ہر بار ایک نیا راستہ دکھ ، اذیت اور آنسوؤں کے پتھروں سے اٹا نظر آتا ہے۔ آج سے کچھ دن پہلے سوات میں بچوں، بڑوں اور جوانوں کی ایک ساتھ موت دیکھ کر پاکستان میں خوف و غم کی لہر اٹھی تھی۔ سب ہی چیخ اٹھے تھے، کنارے کے اس پارکھڑے ویڈیوز بناتے لوگوں پر بھی خوب تنقید ہوئی، ایک کے بعد ایک بیان تکلیف دہ اور قہرکا ساتھ۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا کبھی یہ اذیت کم ہو سکے گی؟

ہم بڑے بڑے عہد کرنے والوں کو دیکھ چکے ہیں، ایک کے بعد ایک ناموں کی تختیاں بدلتی جاتی ہیں لیکن سب کچھ ویسا ہی رہتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرے کندھے تک ذمے داریوں اور الجھنوں کے پوٹ کو دھکیلتے دھکیلتے ہم اس پوٹ کو چٹکی سے پکڑکر دریا برد ہی تو کر دیتے ہیں کہ ہم اسی قابل ہیں۔ برف جیسے جذبات رکھنے والے۔

ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، جوش بھی ہے، عقل بھی ہے لیکن عہدہ ملتے ہی سب دھندلا پڑ جاتا ہے۔ ابھی چند برسوں پہلے کی بات ہے، بارش نے جو شور بپا کیا تھا، نالوں میں طغیانی اور سڑکیں دریا بن گئی تھیں۔ تب بھی محلوں سے گزرنے والے نالوں نے بھی کئی جانوں کو نگلا تھا۔ ایک عرصے تک سفید اور پیلی حفاظتی پٹیوں نے ایک حفاظتی جنگلوں کے ساتھ کچھ سڑکوں کا محاصرہ کر رکھا تھا اور پھر سب کچھ بیٹھتا گیا۔گرد بیٹھ گئی اور وقت گزرگیا۔ نالوں میں کچرا بھرتا گیا، ان کو بھرنے کا کام اگر عوام اور سرکاری اداروں کے عہدیداران کرتے ہیں تو ان کی طرف سے غفلت برتنے کا کام بھی عوام اور سرکاری ادارے ہی کرتے ہیں یہاں تک کہ نشئی اور مخصوص مافیا والے ناموں اور اس کے ارد گرد کی حفاظتی منڈیروں سے لوہا، سریا تک کھینچ لیتے ہیں اور کون ہے ان نشے میں ڈوبے لوگوں کو روکنے والا۔ اگر انڈیا ہمارا دشمن ہے تو یہ نشئی اور خاص مافیا کیا ہمارے دوست ہیں؟

بات پھر کسی اور جانب  چل نکلی ہے۔ غفلت برتنے میں ہم سب آگے آگے رہتے ہیں کہ یہ میرا شہر ہی نہیں ہے، میں تو یہاں کھانے کمانے آیا ہوں، مجھے اس سے کیا، میرا شہر تو دورکہیں ہے۔ وہ دور سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا ہوتا ہے، بس کہانی چلتی رہتی ہے۔

پچھلے چند برسوں میں بھی سنا تھا کہ خزانہ بھر کر فنڈز ملے تھے پھر سب کہاں گئے؟ اب اس سال بھی سنا تو ہے کہ پیسہ بہت ہے، ملک بھر کا حال یہی ہے۔ ایک سیاح خاندان سیر و تفریح کے لیے نکلتا ہے، اپنا پیسہ خرچ کرتا ہے لیکن جب دریا کے بیچ پھنس جاتا ہے تو بس دہائیاں دیتا ہی رہ جاتا ہے۔ ریسکیو والا آیا بھی تو غریب کے پاس ایک رسی بھی نہ تھی بچانے کے واسطے۔ خود ملاحظہ کر لیں، پچھلے دنوں کی ویڈیو۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پندرہ منٹ نہیں تو ایک آدھ گھنٹے میں ہی ریسکیو کے لیے ہیلی کاپٹر آنا تھا، ایک دو نہیں اٹھارہ انیس انسانوں کی جان کا معاملہ تھا۔ پر جناب! کہاں، ہم ایک دوسرے کو اپنی غربت کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ کیا متعلقہ ڈسٹرکٹ میں واقعی فوری طور پر ایسا کچھ بھی نہ تھا، یا صوبے میں؟ کیا واقعی عوام کی جان فوری طور پر بچانے کے لیے ہمارے خالی خزانے منہ چڑا رہے ہیں؟

ابھی چند دنوں پہلے ہی کی خبر ہے، جب خیبرپختونخوا میں گزشتہ اور حالیہ سال کے دوران اربوں روپے کی بے ضابطگیوں اور کرپشن کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔ 147 ارب اٹھارہ کروڑ روپوں کی بے ضابطگی۔ خدا کا خوف۔۔۔۔صرف یہی نہیں، دوسرے چھوٹے صوبے کے متعلق بھی ایسی ہی کرپشن کی رپورٹ نظر سے گزری۔ ٹن بلین ٹری سونامی پروگرام بلوچستان کے حوالے سے 16 ارب 80 کروڑ روپوں کی بے قاعدگیاں۔ ہمارے چھوٹے صوبے کرپشن کے حوالوں سے کچھ پیچھے نہیں، اب بڑوں کو کیا کہیں۔ کسی نے کہا جناب! چھوٹوں کی بات نہ کریں، یہاں فنڈز تو بہت ہوتے ہیں پر کام زیرو فی صد بھی نہیں ہوتے۔ یہ ساری خبریں، سارے دعوے بے بنیاد، سب رپورٹیں جھوٹی ہیں اور حقیقت جو چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ اب بس بھی کرو، فرعونیت کا یہ گندا کھیل۔

بات بہت مختصر اور مکمل ہے کہ ہم نے اپنے ملک کو اتنی عزت اور اہمیت دی ہی نہیں کہ جس کا وہ حق دار ہے۔ شروع سے لے کر آج تک ہم عوام کے خزانے کو فرد واحد کا خزانہ سمجھ کر صرف اپنا بینک بیلنس بڑھاتے رہے۔ جب عوام ہر روز اونچے نیچے گڑھوں سے بھرپور سڑک پر جھولتے رکشاؤں میں سفر کرتی ہے تو خاص کر بزرگ خواتین کے اذیت بھرے چہرے دیکھنے کے ہوتے ہیں۔ بہت سے کراہ کر رہ جاتے ہیں۔ یہ عام سی باتیں ہیں جو روزمرہ میں شامل ہیں۔ سڑکوں پر ٹارگٹ پورا کرتے چوکس لوگ، جب اونچے عہدے ملتے ہیں تو زمین پر چلتے پھرتے لوگ نظر آنا ہی بند ہو جاتے ہیں۔

چھوٹے صوبے تو چھوٹے ہیں پر کارنامے بڑے بڑے۔ کوہستان کے حوالے سے بھی خبریں ابھر رہی ہیں۔ ترقیاتی کاموں کے مختص فنڈ کی کہانی۔ اب تحقیقات کرائیں نہ کرائیں، حکم دیں نہ دیں، جو جانیں گزرگئیں وہ واپس نہیں آ سکتیں، لیکن بدعنوانی اور بددیانتی کے باعث جو کچھ بڑے سے لے کر چھوٹے صوبے، ضلعوں اور محلوں میں ہو رہا ہے کیا اس کے رک جانے یا لگام کی بھی کوئی سچائی ہے؟ کوئی خبر ہے۔ کہیں کوئی قریب والا رہائشی یا دور دیار رہنے والا اپنے فرائض کو اپنا ملک اپنی عزت سمجھ کر انجام دے رہا ہے؟

ہم مسلمان ہیں، ابھی حال ہی میں انڈیا کو دھول چٹائی ہے۔ جیوے جیوے۔۔۔۔ اور یہ ہی کافی ہے۔ حال ہی میں جاپان کے بارے میں ایک رپورٹ دیکھنے کو ملی وہ غیر مسلم ہیں لیکن ان کی جین میں صفائی کا عنصر نمایاں ہے، وہ ذمے دار ہیں، اپنے گھر، اسکول،کالجز، دفاتر یہاں تک کہ سڑکیں، گزرگاہیں اور اسٹیڈیم، پارکوں کو بھی اپنا سمجھتے ہیں، اور اس کی صفائی ستھرائی میں عار محسوس نہیں کرتے۔ وہ ان کا اپنا ملک جاپان ہے، جسے دھول بنانے کے واسطے ایٹم بم برسائے گئے تھے، لیکن اس قوم کے عزم کی داد دینا پڑتی ہے وہ مٹی ہو کر بھی پھر ابھرے اور سونا بن کر چھا رہے ہیں۔

ہم نشئیوں کو پال رہے ہیں، جو ادھر اُدھر سڑکوں کے کنارے پلوں کے نیچے، نالوں میں اور ایوانوں میں ہمارے ملک کے سریے لوہے نکال کر ردی کے مول بیچ رہے ہیں۔ ہم کب اپنے آپ کو پہچانیں گے، اب جاگ بھی جائیں بہت ہوگیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چھوٹے صوبے ہیں اور ہی نہیں رہے ہیں ہیں کہ کے بعد

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود