پاکستان اور معاہدہ ابراہیمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہمارے تجزیہ کار دوست کہتے ہیں کہ بے شک پاکستانی حکمران انتہائی سفاک، بے حس اور ظالم ہیں، وہ پاکستانی قوم کو زندہ رہنے کی ذرا سی سہولت دینے کو تیار نہیں ہیں اور خود عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں کے بل پر اپنی تنخواہوں میں کئی سو گنا اضافہ اور بے تحاشا مراعات حاصل کررہے ہیں لیکن یہ سب کچھ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ’’گریٹر گیم‘‘ کا حصہ ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ پاکستانی عوام دو وقت کی روٹی کے شیطانی چکر سے باہر آئیں اور اپنے ملک کے خلاف عالمی سازش کو روکنے کے لیے احتجاج کا حصہ بنیں۔ اس کام میں آئی ایم ایف بھی پاکستانی حکمرانی کی سہولت کاری کررہا ہے۔ اسے ارکان پارلیمنٹ، وزیروں اور مشیروں کی تنخواہوں میں کئی سو گنا اضافے پر تو کوئی اعتراض نہیں البتہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فی صد اضافہ بھی اسے گوارا نہیں۔ ہمارے دوست کہتے ہیں کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے بھارت کے ذریعے پاکستان کے کان مروڑنے کی کوشش کی تھی وہ پاکستان کو تین چار دن تک اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا رہا، امریکا نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ اس لڑائی میں دخل نہیں دے گا۔ دونوں ملک لڑ بھڑ کر خود ہی صلح کرلیں گے لیکن جب پاکستان نے جوابی کارروائی کی اور صرف پونے چار گھنٹے کی فضائی کارروائی کے ذریعے بھارت کے حواس ٹھکانے لگا دیے تو امریکا اچھل کر درمیان میں آگیا اور امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ رکوا دی۔ مقصد بھارت کو مزید نقصان سے بچانا تھا۔ جنگ بندی کے فوراً بعد پاکستان کے آرمی چیف کا شکریہ ادا کرنے کے لیے امریکا بلالیا۔ اسے زبردست پروٹوکول دیا گیا اور امریکی صدر نے اس کے ساتھ بات چیت میں دو گھنٹے صرف کیے۔ اس بات چیت کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کردیا۔ حالانکہ یہ وہی امریکی صدر ہے جو غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک رہا ہے جس نے غزہ میں سیز فائر کی قرار دادوں کو ایک نہیں سات مرتبہ ویٹو کیا ہے، جسے امن کا دشمن قرار دیا جائے تو غیر مناسب نہ ہوگا۔
ہمارے دوست کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے یا پاکستان حالات کے دبائو میں آکر کچھ بھی کررہا ہے وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اس ’’گریٹر گیم‘‘ کا حصہ ہے جس کا مقصد ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس کے لیے ’’معاہدہ ابراہیمی‘‘ کا ڈراما رچایا جارہا ہے عالمی اسٹیبلشمنٹ تمام اہم مسلمان ممالک کو اس معاہدے کے حصار میں لانا چاہتی ہے۔ عرب ممالک اس معاہدے پر آمادہ ہیں، کوئی دن جاتا ہے کہ وہ اس معاہدے پر دستخط کرکے اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے۔ پاکستان پر بھی کام ہورہا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف کے منہ سے کبھی کبھی سچی بات نکل جاتی ہے انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جب سب عرب ممالک اسے تسلیم کرلیں گے تو پاکستان کیسے الگ رہ سکے گا۔ یعنی پاکستان کا معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کرنا اور اسرائیل کو تسلیم کرنا عربوں کے تسلیم کرنے سے مشروط ہے اور مستقبل میں اس کے واضح آثار نظر آرہے ہیں۔ ان حالات میں ہماری داخلی سیاست کا جمود بھی ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں نے جیل میں عمران خان سے کئی بار مذاکرات کیے ہیں لیکن وہ کسی ڈیل یا ڈھیل پہ آمادہ نہیں ہیں۔ وہ عدالتوں کے ذریعے مقدمات لڑ کر باہر آنا چاہتے ہیں لیکن عدالتوں کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ رہی پی ٹی آئی کی وہ لیڈر شپ جو جیل سے باہر ہے اسے عمران خان کی رہائی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ اگر رہا ہوجاتے ہیں تو یہ لیڈر شپ بالکل مائنس ہوجائے گی جبکہ یہ مائنس نہیں ہونا چاہتی۔
ہر دوسرے دن جیل سے عمران خان یہ پیغام جاری کرتے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں کریں گے بس یہی پیغام سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کا اثاثہ ہے۔ رہی تحریک چلانے کی بات تو وہ محض ہوائوں میں ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان جس ’’گریٹ گیم‘‘ کا حصہ بن رہا ہے اس میں بھی خان کی رہائی کا امکان صفر نظر آتا ہے۔ عمران خان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ہیں جبکہ ماضی میں ان کی سبک دوشی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے۔
ان دنوں ایک افواہ یہ بھی پھیلی ہوئی ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کرنے پر غور ہورہا ہے۔ اس افواہ نے پوری قوم میں سراسیمگی پھیلا دی ہے۔ ابھی تو قوم کے اندر یہ اُمید موجود تھی کہ آئین کے مطابق پانچ سال کے بعد انتخابات ہوں گے تو اسے اپنی مرضی کے نمائندے چننے کا موقع ملے گا اگرچہ پچھلے عام انتخابات میں قوم نے جو نمائندے چنے تھے انہیں حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا گیا لیکن پھر بھی اسے امید تھی کہ شاید آئندہ ایسا نہ ہوسکے لیکن موجودہ پارلیمنٹ میں توسیع کی افواہ نے اس اُمید کا بھی گلا گھونٹ دیا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوگیا تو ملک میں جمہوریت کی لاش تعفن دینے لگے گی اور اسے ٹھکانے لگانا دشوار ہوجائے گا۔ ابھی ملک میں ساون نہیں شروع ہوا لیکن پری مون سون بارشوں نے ہی کہرام برپا کر رکھا ہے۔ سیر و سیاحت کو آئے ہوئے ایک خاندان کے اٹھارہ افراد سوات میں سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے ہیں۔ کے پی کے حکومت نے ان افراد کو بچانے کے لیے تو کوئی قدم نہیں اٹھایا لیکن اب اظہار افسوس کے لیے چھلانگیں لگاتی پھر رہی ہے۔ سیلابی پانی کو ندی نالوں میں ڈالنے کے لیے جو سیلابی نالے بنائے جاتے ہیں وہ عام دنوں میں کچرے سے بھر دیے جاتے ہیں اور برسات سے پہلے ان کی صفائی نہیں کی جاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بارش ہوتی ہے تو پانی گلیوں میں جمع ہو کر گھروں میں داخل ہوجاتا ہے۔ اب بارشیں ہورہی ہیں تو شہریوں کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عالمی اسٹیبلشمنٹ ہیں کہ رہا ہے کا حصہ کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔