Jasarat News:
2026-07-24@06:16:36 GMT

پاکستان اور معاہدہ ابراہیمی

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہمارے تجزیہ کار دوست کہتے ہیں کہ بے شک پاکستانی حکمران انتہائی سفاک، بے حس اور ظالم ہیں، وہ پاکستانی قوم کو زندہ رہنے کی ذرا سی سہولت دینے کو تیار نہیں ہیں اور خود عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں کے بل پر اپنی تنخواہوں میں کئی سو گنا اضافہ اور بے تحاشا مراعات حاصل کررہے ہیں لیکن یہ سب کچھ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ’’گریٹر گیم‘‘ کا حصہ ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ پاکستانی عوام دو وقت کی روٹی کے شیطانی چکر سے باہر آئیں اور اپنے ملک کے خلاف عالمی سازش کو روکنے کے لیے احتجاج کا حصہ بنیں۔ اس کام میں آئی ایم ایف بھی پاکستانی حکمرانی کی سہولت کاری کررہا ہے۔ اسے ارکان پارلیمنٹ، وزیروں اور مشیروں کی تنخواہوں میں کئی سو گنا اضافے پر تو کوئی اعتراض نہیں البتہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فی صد اضافہ بھی اسے گوارا نہیں۔ ہمارے دوست کہتے ہیں کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ نے بھارت کے ذریعے پاکستان کے کان مروڑنے کی کوشش کی تھی وہ پاکستان کو تین چار دن تک اپنی جارحیت کا نشانہ بناتا رہا، امریکا نے اس موقع پر اعلان کیا کہ وہ اس لڑائی میں دخل نہیں دے گا۔ دونوں ملک لڑ بھڑ کر خود ہی صلح کرلیں گے لیکن جب پاکستان نے جوابی کارروائی کی اور صرف پونے چار گھنٹے کی فضائی کارروائی کے ذریعے بھارت کے حواس ٹھکانے لگا دیے تو امریکا اچھل کر درمیان میں آگیا اور امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ رکوا دی۔ مقصد بھارت کو مزید نقصان سے بچانا تھا۔ جنگ بندی کے فوراً بعد پاکستان کے آرمی چیف کا شکریہ ادا کرنے کے لیے امریکا بلالیا۔ اسے زبردست پروٹوکول دیا گیا اور امریکی صدر نے اس کے ساتھ بات چیت میں دو گھنٹے صرف کیے۔ اس بات چیت کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کردیا۔ حالانکہ یہ وہی امریکی صدر ہے جو غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل کے ساتھ برابر کا شریک رہا ہے جس نے غزہ میں سیز فائر کی قرار دادوں کو ایک نہیں سات مرتبہ ویٹو کیا ہے، جسے امن کا دشمن قرار دیا جائے تو غیر مناسب نہ ہوگا۔
ہمارے دوست کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے یا پاکستان حالات کے دبائو میں آکر کچھ بھی کررہا ہے وہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اس ’’گریٹر گیم‘‘ کا حصہ ہے جس کا مقصد ’’عظیم تر اسرائیل‘‘ کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس کے لیے ’’معاہدہ ابراہیمی‘‘ کا ڈراما رچایا جارہا ہے عالمی اسٹیبلشمنٹ تمام اہم مسلمان ممالک کو اس معاہدے کے حصار میں لانا چاہتی ہے۔ عرب ممالک اس معاہدے پر آمادہ ہیں، کوئی دن جاتا ہے کہ وہ اس معاہدے پر دستخط کرکے اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے۔ پاکستان پر بھی کام ہورہا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف کے منہ سے کبھی کبھی سچی بات نکل جاتی ہے انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جب سب عرب ممالک اسے تسلیم کرلیں گے تو پاکستان کیسے الگ رہ سکے گا۔ یعنی پاکستان کا معاہدہ ابراہیمی پر دستخط کرنا اور اسرائیل کو تسلیم کرنا عربوں کے تسلیم کرنے سے مشروط ہے اور مستقبل میں اس کے واضح آثار نظر آرہے ہیں۔ ان حالات میں ہماری داخلی سیاست کا جمود بھی ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں نے جیل میں عمران خان سے کئی بار مذاکرات کیے ہیں لیکن وہ کسی ڈیل یا ڈھیل پہ آمادہ نہیں ہیں۔ وہ عدالتوں کے ذریعے مقدمات لڑ کر باہر آنا چاہتے ہیں لیکن عدالتوں کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ رہی پی ٹی آئی کی وہ لیڈر شپ جو جیل سے باہر ہے اسے عمران خان کی رہائی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ اگر رہا ہوجاتے ہیں تو یہ لیڈر شپ بالکل مائنس ہوجائے گی جبکہ یہ مائنس نہیں ہونا چاہتی۔
ہر دوسرے دن جیل سے عمران خان یہ پیغام جاری کرتے ہیں کہ وہ ڈیل نہیں کریں گے بس یہی پیغام سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کا اثاثہ ہے۔ رہی تحریک چلانے کی بات تو وہ محض ہوائوں میں ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان جس ’’گریٹ گیم‘‘ کا حصہ بن رہا ہے اس میں بھی خان کی رہائی کا امکان صفر نظر آتا ہے۔ عمران خان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے خلاف ہیں جبکہ ماضی میں ان کی سبک دوشی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے۔
ان دنوں ایک افواہ یہ بھی پھیلی ہوئی ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کرنے پر غور ہورہا ہے۔ اس افواہ نے پوری قوم میں سراسیمگی پھیلا دی ہے۔ ابھی تو قوم کے اندر یہ اُمید موجود تھی کہ آئین کے مطابق پانچ سال کے بعد انتخابات ہوں گے تو اسے اپنی مرضی کے نمائندے چننے کا موقع ملے گا اگرچہ پچھلے عام انتخابات میں قوم نے جو نمائندے چنے تھے انہیں حکومت بنانے کا موقع نہیں دیا گیا لیکن پھر بھی اسے امید تھی کہ شاید آئندہ ایسا نہ ہوسکے لیکن موجودہ پارلیمنٹ میں توسیع کی افواہ نے اس اُمید کا بھی گلا گھونٹ دیا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوگیا تو ملک میں جمہوریت کی لاش تعفن دینے لگے گی اور اسے ٹھکانے لگانا دشوار ہوجائے گا۔ ابھی ملک میں ساون نہیں شروع ہوا لیکن پری مون سون بارشوں نے ہی کہرام برپا کر رکھا ہے۔ سیر و سیاحت کو آئے ہوئے ایک خاندان کے اٹھارہ افراد سوات میں سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے ہیں۔ کے پی کے حکومت نے ان افراد کو بچانے کے لیے تو کوئی قدم نہیں اٹھایا لیکن اب اظہار افسوس کے لیے چھلانگیں لگاتی پھر رہی ہے۔ سیلابی پانی کو ندی نالوں میں ڈالنے کے لیے جو سیلابی نالے بنائے جاتے ہیں وہ عام دنوں میں کچرے سے بھر دیے جاتے ہیں اور برسات سے پہلے ان کی صفائی نہیں کی جاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بارش ہوتی ہے تو پانی گلیوں میں جمع ہو کر گھروں میں داخل ہوجاتا ہے۔ اب بارشیں ہورہی ہیں تو شہریوں کو ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عالمی اسٹیبلشمنٹ ہیں کہ رہا ہے کا حصہ کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل