Islam Times:
2026-06-03@08:41:14 GMT

پاکستان میں ابراہیمی معاہدے کی گونج

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

پاکستان میں ابراہیمی معاہدے کی گونج

اسلام ٹائمز: فلسطین کے مسئلہ پر کسی بھی قسم کا یو ٹرن اور امریکہ کے اشاروں پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کر دیگی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا نظریہ دفن ہو جائیگا، علامہ اقبال کے افکار کو جلا کر راکھ دیا جائیگا، یہ سب کچھ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت سے ہوگا اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت امریکہ کی اندھی محبت میں یہ سب کچھ کرنے کیلئے تیار ہے۔ پاکستان کے عوام ہمیشہ قائد اعظم کے پاکستان کی بات کرتے ہیں اور آج بھی حکومت کو بتا دیتے ہیں کہ قائد کے پاکستان میں اسرائیل کیساتھ تعلقات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

ابراہیمی معاہدہ ایک ایسی دستاویز ہے، جسے ٹرمپ نے اپنی گذشتہ حکومت کے دور میں متعارف کروایا تھا۔ اس معاہدے کا نام پہلے صدی کی ڈیل رکھا گیا تھا، بعد میں اس کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ابراہیمی معاہدے کا نام دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا اصل مقصد دنیائے اسلام کے ممالک کو غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ بٹھانا اور تعلقات استوار کروانا ہے، تاکہ فلسطین کا سوال ہی ختم ہو جائے۔ اس معاہدے کا آغاز پہلے متحدہ عرب امارات اور بحرین سے ہوا۔ اس کا باضابطہ اظہار اگست اور ستمبر 2020ء میں کیا گیا اور 15 ستمبر 2020ء کو واشنگٹن ڈی سی میں دستخط کرکے اعلان کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں۔ عرب امارات عرب دنیا میں اردن کے بعد پہلا ملک بن گیا، جس نے غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کو تسلیم کیا۔

اس کے بعد مراکش اور سوڈان نے بھی اسی ابراہیمی معاہدے کی رو سے امریکی حکومت کے ساتھ مل کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ابراہیمی معاہدے کے لئے دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ تینوں بڑے ادیان کے ماننے والے یعنی مسلمان، مسیحی اور یہودی تینوں حضرت ابراہیم کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم میں یہودیوں سے بار بار یہی سوال پوچھا گیا ہے کہ "تم یہودی کہاں سے اور کیسے بنے ہو۔؟" اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سوال پوچھا کہ "تم ابراہیم کو مانتے ہو، لیکن ابراہیم تو یہودی نہیں تھے؟" یہودیوں سے پوچھا گیا کہ "جنہیں تم اپنا باپ داد مانتے ہو، وہ تو یہودی نہیں تھے؟" لیکن آج یہودیوں سے بڑھ کر یہودیوں کے وفادار مسلم ممالک میں موجود ہیں اور ایسے ہی کچھ خیانت کار پاکستان میں بھی پاکستان کی نظریاتی سرحدو ں کو کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں۔

حقیقت میں امریکہ نے یہ معاہدہ خطے میں فلسطین کے کاز کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے بنایا ہے اور ساتھ ساتھ عرب دنیا کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا کرکے وہ خطے میں اسرائیل کے سب سے بڑے مخالف ایران کو تنہاء کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس معاہدے کا ظاہری مقصد جو دنیا کو دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمان، عیسائی اور یہودی تینوں ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے ہیں اور اس عنوان سے آپس میں تعاون ہونا چاہیئے اور پھر اس تعاون کو سکیورٹی، معاشی اور نہ جانے کون کون سے تعاون کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے بعد تل ابیب میں ایک بڑا بینر آویزاں کیا گیا ہے، جس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصویروں کے ساتھ سعودی عرب کے محمد بن سلمان، عرب امارات کے شیخ زاید، قطر کے شیخ تمیم، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس، مصری صدر جنرل سیسی، مراکش کے محمد ششم، اردن کے شاہ عبد اللہ، شام کے محمد الشرع جولانی، لبنان کے صدر جوزف عون اور مسقط کے سلطان ہاشم بن طارق کی تصویریں آویزاں تھیں۔

اس تصویر سے واضح ہوتا ہے کہ ان سب حکمرانوں نے فلسطین کو فراموش کر دیا ہے اور امریکہ کے سامنے خود کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی عزت و حمیت امریکی و اسرائیلی حکمرانوں کے قدموں میں ڈال دی ہے۔ اس تسلسل میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ جلد ایسے ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے، جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کیا یہ تصور نہ کیا جانے والا ملک پاکستان ہوسکتا ہے۔؟ حالات اور واقعات کچھ ایسے ہی اشارے دے رہے ہیں۔ کیونکہ حال ہی میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بغیر کسی تذبذب کے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا اظہار کیا کہ پاکستان اسرائیل کو تبھی تسلیم کرے گا، جب فلسطین کی آزاد ریاست جس کا دارالحکومت القدس ہوگا۔ حالانکہ اس معاملہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کی وضع کردہ خارجہ پالیسی اور نظریہ کے اصولی موقف میں کسی جگہ ایسی بات موجود نہیں ہے کہ پاکستان کسی شرط کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرے گا، بلکہ قائد اعظم کی پالیسی کے مطابق پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے۔

اسحاق ڈار کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے معروف خاتون صحافی عاصمہ شیرازی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے اشارے دیئے اور کہا کہ پاکستان کو اس میں اپنا مفاد دیکھنا ہے، یعنی ایک شک اور شبہ ایجاد کر دیا۔ یہاں بھی قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریہ اور اصولوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور حکومتی وزیر و مشیر رانا ثناء اللہ بھی اسرائیل کی محبت میں میدان میں نکل آئے ہیں اور موصوف کہتے ہیں کہ پاکستان کو ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کے عنوان سے عرب ممالک کے ساتھ جانا چاہیئے۔ عجیب بات ہے کہ حکومت کی صفوں میں ایسے عناصر بھی موجود ہیں، جو خود مملکت خداداد پاکستان کے دشمن ہیں۔ کیا پاکستان جیسے ملک کی پالیسی عرب ممالک کی پالیسیوں کے ساتھ نتھی ہونی چاہیئے۔؟

واضح رہے کہ امریکہ کی چاپلوسی کرتے ہوئے ابراہیمی معاہدے کا حصہ بننے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نظریہ پاکستان سے انحراف کرچکی ہے اور ساتھ ساتھ اس معاہدے میں شمولیت کا واضح مقصد ہے کہ فلسطین کے بارے میں اب کوئی سوال نہیں ہوگا۔ یعنی فلسطین کو فراموش کیا جائے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ ستر ہزار سے زائد معصوم بچوں اور خواتین کا غزہ میں بہنے والا خون ابھی تک غزہ کی گلیوں میں خشک نہیں ہوا ہے، لیکن پاکستان میں حکومتی وزراء امریکہ اور اسرائیل کی چاپلوسی میں اندھے ہوئے جا رہے ہیں۔ فلسطین کے مسئلہ پر کسی بھی قسم کا یو ٹرن اور امریکہ کے اشاروں پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت پاکستان کی نظریاتی سرحدو ں کو کھوکھلا کر دے گی۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا نظریہ دفن ہو جائے گا، علامہ اقبال کے افکار کو جلا کر راکھ دیا جائے گا، یہ سب کچھ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت سے ہوگا اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت امریکہ کی اندھی محبت میں یہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے۔ پاکستان کے عوام ہمیشہ قائد اعظم کے پاکستان کی بات کرتے ہیں اور آج بھی حکومت کو بتا دیتے ہیں کہ قائد کے پاکستان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قائد اعظم محمد علی جناح اسرائیل کو تسلیم کر اس معاہدے کا پاکستان میں ہے کہ حکومت پاکستان کے اسرائیل کی اسرائیل کے عرب امارات کہ پاکستان کے پاکستان پاکستان کی فلسطین کے یہ سب کچھ ہیں اور ا کے ساتھ گیا ہے کے بعد کے لئے کیا جا

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ