Islam Times:
2026-06-03@07:03:32 GMT

آج کا عظیم قائد

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

آج کا عظیم قائد

اسلام ٹائمز: حقیقت یہ ہے کہ ایران سے باہر سوشل نیٹ ورکس پر "ہیرو" کے عنوان سے شروع ہونیوالی لہر آیت اللہ خامنہ ای کیلئے ایک ایسے راستے کا آغاز ہے، جو وقت گزرنے کیساتھ ساتھ خود کو مزید نمایاں کریگا۔ کئی سال قبل امریکہ کے کارنیگی انسٹی ٹیوشن نے ایک رپورٹ میں آیت اللہ خامنہ ای کو دنیا کا طاقتور ترین رہنماء قرار دیا تھا۔ بعد ازاں، فوربس، جو کہ امریکہ اور دنیا کے سب سے مشہور اقتصادی میگزین میں سے ایک ہے، اس نے آیت اللہ خامنہ ای کو دنیا کے طاقتور ترین لیڈروں میں سے ایک کے طور پر متعارف کرایا۔ ان دنوں دنیا کے تمام تھنک ٹینکس کی نگاہیں رہبر انقلاب کی طرف مرکوز ہیں۔ تحریر: مھدی جہانتیغی

آیت اللہ خامنہ ای کو اپنی قوم اور اسرائیل کے خلاف برسوں سے مزاحمت کا  سلسلہ جاری رکھنے والے گروہوں اور اداروں کی حمایت کے حوالے سے ایک طاقتور اور دلیر رہنماء تصور کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کی ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے بعد کیے گئے حالیہ سروے میں عام لوگوں میں بھی ان کی مقبولیت اور ان پر فخر کرنے کے احساس کا گراف بلند ہوا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنے لوگوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ہیرو بن کر سامنے آئے ہیں۔ رائے عامہ کی نظر میں انھوں نے 35 سال تک مختلف جہتوں میں نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی ہے، بلکہ ان بارہ دنوں میں اعلیٰ فوجی سطح پر اسرائیل و امریکہ کو حقیقی جنگ میں شکست دی ہے۔ جیسا کہ امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ نے کئی سال پہلے لکھا تھا "ایران میں امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ آیت اللہ خامنہ ای کے نام سے ایک "سپر مخالف" کی موجودگی ہے، جو عالمی سیاست کے روڈ میپ کو جانتا ہے اور لوگوں کا اس پر مکمل یقین کے ساتھ بھروسہ ہے۔"

حالیہ برسوں میں، آیت اللہ خامنہ ای، کشمیر اور پاکستان سے لے کر بحرین، کویت، عراق، فلسطین اور لبنان تک، عالم اسلام کے مختلف حصوں میں ہمیشہ توجہ اور دلچسپی کا موضوع رہے ہیں، لیکن پچھلے چند سالوں میں جیسے جیسے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایران کی جنگیں زیادہ واضح ہوئی ہیں، یورپ اور امریکہ کے دیگر عرب، افریقی اور مسلم ممالک میں بھی رہبر انقلاب کی طرف توجہ کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے فلسطینی عوام کے مخلصانہ دفاع نے عالم اسلام کے بہت سے دلوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ تاہم رہبر انقلاب نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف حالیہ جنگ میں جس غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کیا، اس نے ان کی مقبولیت کو اسلامی دنیا میں بالخصوص اور عالمی برادری میں بالعموم عروج پر پہنچا دیا ہے۔

دنیا انہیں ایک ہیرو کی طور پر دیکھ رہی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب بہت سے حکام سفارتی عہدوں پر بھی اسرائیل اور امریکہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، وہاں آیت اللہ خامنہ ای نے عین الاسد اور العدید کے امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے کرنے کے فوجی احکامات دیکر رائے عامہ کا دل جیت لیا ہے۔ اسی طرح اسرائیل پر "وعدہ صادق 1 ، 2" 3" اور بشارت الفتح" کے نام پر حملے کرکے اپنی جرأت کا لوہا منوا لیا ہے۔صیہونی حکومت نے ایران پر حملہ کرکے اور پھر امریکہ نے اس جنگ میں داخل ہو کر اسلامی جمہوریہ کو عالم اسلام سے باہر بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ جب دنیا اس عظیم مہم کو دیکھ رہی تھی، آیت اللہ خامنہ ای اس جنگ کے جواب میں نہ صرف پیچھے نہیں ہٹے بلکہ جیسا کہ انھوں نے پہلے وعدہ کیا تھا، انھوں نے حیفا اور تل ابیب کو نشانہ بنانے کا حکم جاری کیا، اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے قطر میں امریکی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کے احکامات جاری کئے۔

 دو ایٹمی قوتوں کے مقابلے میں آیت اللہ خامنہ ای کی جرأت دنیا اور عالمی رائے عامہ کے وسیع حلقوں کے لیے قابل تعریف تھی، جس کی وجہ سے صیہونی حکومت کی مجرمانہ تصویر طوفان الاقصی کے بعد پہلے کے مقابلے میں بتدریج اور زیادہ وسیع اور گہری ہوتی جا رہی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے بین الاقوامی ہیرو بننے کی نشانیاں حالیہ واقعات کے بعد واضح طور پر نظر آرہی ہیں۔ واضح مثال کے طور پر، ایک مشہور کوریائی اداکارہ، گلوکارہ اور انفلوئنسر جیہن نے ایک مہم انسٹاگرام پر شروع کی ہے، جس میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو انقلاب کا "ہیرو" کہا گیا اور بہت سے غیر ملکی صارفین اسے بار بار پوسٹ کر رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران سے باہر سوشل نیٹ ورکس پر "ہیرو" کے عنوان سے شروع ہونے والی لہر آیت اللہ خامنہ ای کے لیے ایک ایسے راستے کا آغاز ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود کو مزید نمایاں کرے گا۔ کئی سال قبل امریکہ کے کارنیگی انسٹی ٹیوشن نے ایک رپورٹ میں آیت اللہ خامنہ ای کو دنیا کا طاقتور ترین رہنماء قرار دیا تھا۔ بعد ازاں، فوربس، جو کہ امریکہ اور دنیا کے سب سے مشہور اقتصادی میگزین میں سے ایک ہے، اس نے آیت اللہ خامنہ ای کو دنیا کے طاقتور ترین لیڈروں میں سے ایک کے طور پر متعارف کرایا۔ ان دنوں دنیا کے تمام  تھنک ٹینکس کی نگاہیں رہبر انقلاب کی طرف مرکوز ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آیت اللہ خامنہ ای کو دنیا رہبر انقلاب طاقتور ترین اور امریکہ میں سے ایک ساتھ ساتھ امریکہ کے انھوں نے کے ساتھ کے خلاف دنیا کے کی طرف

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان