امن کے نوبیل انعام کیلئے میں ہی بہترین امیدوار ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ کی خوش فہمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
آئیوا میں امریکا کے قومی دن کی تقریب سے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے، امریکا کے پاس دنیا کی مضبوط ترین فوج اور بہترین آلات ہیں، دنیا نے دیکھا امریکی طیاروں نے 37 گھنٹے بغیر رُکے سفر کیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو امن کے نوبیل انعام کے لیے بہترین امیدوار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے پانچ ممالک کو جنگ میں جانے سے روکا۔ آئیوا میں امریکا کے قومی دن کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایٹمی جنگ ہونے سے پہلے پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی کرائی، کوسوو اور سربیا کو لڑنے سے روکا، کانگو روانڈا جنگ بند کرائی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سب دیکھیں گے کہ ایک اسکول کے پروفیسر کو امن کا نوبیل انعام دے دیا جائے گا، جسے آپ جانتے بھی نہیں ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے، امریکا کے پاس دنیا کی مضبوط ترین فوج اور بہترین آلات ہیں، دنیا نے دیکھا امریکی طیاروں نے 37 گھنٹے بغیر رُکے سفر کیا۔ امریکی صدر نے بل کے ذریعے سرحد سے غیر قانونی داخلہ مکمل بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیپورٹیشن پلان شروع کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔