Daily Ausaf:
2026-07-24@05:14:52 GMT

براہیمی معاہدہ یا مذہبی فریب؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

گزشتہ چند برسوں سے ایک نیا مذہبی تصور عالمی سطح پر ابھرتا نظر آ رہا ہے، جسے ’’ابراہیمی مذہب‘‘ (Abrahamic Religion) کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظریے کو ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ اور ’’عالمی امن‘‘ کے پرکشش عنوانات کے ساتھ متعارف کروایا گیا، مگر اس کے پس پردہ عزائم کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ 2020 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے مابین ایک اہم معاہدہ طے پایا جسے ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ (Abraham Accords) کا نام دیا گیا۔ جب یہ معاہدہ منظر عام پر آیا تو اس نے مسلم دنیا میں فکری و دینی اضطراب کی ایک نئی لہر کو جنم دیا۔ یہ معاہدہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ اس کے ذریعے ایک ’’من گھڑت نظریاتی ڈھانچہ‘‘ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی، جس کا مقصد اسلام، یہودیت اور عیسائیت کو ایک مشترکہ فکری دھارے میں ضم کرنا ہے۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ’’ابراہیمی فیملی ہاؤس‘‘ کے نام سے ایک ’’مذہبی کمپلیکس‘‘ قائم ہو چکاہے، جس میں ایک ہی چھت تلے مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہ کو اکٹھا کیا گیا ہے، یہ کمپلیکس اس نئی ’’عالمی مذہبی شناخت‘‘ کا علامتی مرکز بن چکا ہے۔ مشرق وسطی کے حالیہ دورے کے دوران 17 مئی 2025 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے وہاں جا کر اسے ’’بین المذاہب ہم آہنگی کی شاندار مثال‘‘ قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے مسجد اور چرچ کو تو اکٹھا کر دیا، لیکن ایک اللہ اور تین خداؤں کو کیسے جمع کرو گے؟
سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ واقعی ہم آہنگی ہے یا اسلامی شناخت کے خلاف ایک منظم مگر خطرناک یلغار؟ ’’ابراہیمی مذہب‘‘ کے نام سے نیا فکری تصور دراصل دین اسلام کو مسخ کرنے کی ایک خطرناک شکل ہے، جو صرف ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ کے خوشنما پردے میں لپٹی ہوئی ہے۔ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کو بظاہر مشرقِ وسطیٰ میں امن کا سنگ میل قرار دیا گیا، لیکن اس کا اصل مقصد اسرائیل کو عالمِ عرب میں تسلیم کرانا، فلسطینی مزاحمت کو کمزور کرنا اور اسلامی تشخص کو کمزور کر کے مسلم دنیا میں اعتقادی و تہذیبی رخنہ ڈالنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد (Jared Kushner) جیرڈ کشنر کی نگرانی میں “Abrahamic Faiths Initiative کے نام سے ایک بین الاقوامی مہم شروع کی گئی، جس میں یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ مسلمان، یہودی اور عیسائی ایک مشترکہ عقیدے پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اس نظریہ کے تحت اسلامی عقائد کو ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ کی صورت میں پیش کر کے ان کی اصل روح کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اس معاہدے پر شدید علمی و دینی اعتراضات اور تحفظات ہیں (1) قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ’’حنیف مسلم‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ’’مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا‘‘ (آل عمران: 67) ترجمہ: ’ ’حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے‘‘ یہ آیت مبارکہ واضح طور پر یہ بتاتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کا تعلق کسی بھی بعد میں آنے والے مذہب سے نہیں تھا، بلکہ وہ صرف اللہ کے فرمانبردار، توحید پرست اور مسلم تھے۔ لھذا قرآنی فکر اس معاہدے کی نفی کرتی ہے۔ (2) عقیدہ ختم نبوت کی نفی: ابراہیمی مذہب” کے نظریے میں نبی کریم ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرنا شامل نہیں ہے۔ اس میں یہودیت اور عیسائیت کو اسلام کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اس اتحاد کو تسلیم کرنے کا مطلب عقیدۂ ختمِ نبوت کے خلاف ایک گہری سازش ہے جو کسی بھی مسلمان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ (3) فلسطینی کاز سے انحراف: یہ معاہدہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور ان کی جائز جدوجہد سے غداری ہے۔ مسجد اقصیٰ، القدس شریف، اور فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیلی ناجائز قبضے کے ہوتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا اسلامی اصولوں اور اخلاقیات کے منافی ہے (4) اسلام کو محض روحانیت تک محدود کرنا: اسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ یہ ایک دین کامل کی صورت میں مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ جبکہ’’”ابراہیمی مذہب‘‘ کے ذریعے اسلام کو صرف اخلاقیات اور چند تصورات تک محدود کرنے کی بھیانک کوشش کی جا رہی ہے۔ (5) مذہب کا سیاسی استحصال: یہ معاہدہ مذہب کو سفارت کاری کا آلہ بنانے کی ایک کوشش ہے، جس میں عرب ممالک کو معاشی ترغیبات دے کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ (6) اکبر کے دینِ الٰہی کی یاد دہانی: اس تصور کو مغل بادشاہ اکبر کے “دینِ الٰہی” سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جو مختلف مذاہب کو ملا کر ایک نیا مذہب بنانے کی ناکام کوشش تھی۔ لھذا آج بھی اس فتنہ کے خلاف جد و جہد کیلئے ابولفضل اور فیضی جیسے وظیفہ خور مولویوں کی نہیں بلکہ حضرت شیخ احمد سر ہندی مجدد الف ثانی رح کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شعوری مزاحمت اور بر وقت جد و جہد کی اشد ضرورت ہے (7) اسلام اس وقت دنیا میں ابھرتا ہوا دین برحق ہے۔ دنیا بھر کے لوگ جوق در جوق اسے قبول کرکے سکون پا رہے ہیں۔ حقیقتاً اسی قبولیت اسلام سے خائف ہو کر یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اس’’مذہبی گلوبلائزیشن‘‘ کے فریب کو سمجھے اور اسلامی عقائد، شریعت اور تہذیب و تمدن کی حفاظت کے لیے ہر سطح پر متحد ہو کیونکہ اسلام ہر حوالے سے کامل و اکمل سچا دین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ الازہر کے شیخ احمد الطیب اور دیگر عالمی اسلامی اداروں نے اس معاہدے کو دور حاضر کا ’’فکری فتنہَ‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے، اور واضح کیا ہے کہ مذہبی رواداری کا مطلب عقائد حقہ سے دستبرداری ہرگز نہیں۔ آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ہم دین کے تحفظ پر پہرہ دیں گے یا عالمی دباؤ میں آ کر اسے محض “ابراہیمی روایت” کا ایک جزو تسلیم کر کے اپنی شناخت کھو دیں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ ’’ابراہیمی مذہب‘‘ اور اس کے اردگرد بننے والا بیانیہ ایک منظم مذہبی و سیاسی پروجیکٹ ہے، جو اسلام کی نظریاتی اساس کو متزلزل کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اسلام کی حقانیت سے خوفزدہ طبقات کا بنایا گیا ایک مذہبی فریب ہے، جسے صرف علم، شعور اور دینی وفاداری سے ہی بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ “بین المذاہب مکالمہ’’ اور‘‘ عقائد اسلامیہ پر سمجھوتے” میں فرق کو خوب سمجھیں۔ کسی بھی فورم پر، کسی سطح کا بھی بین المذاہب مکالمہ ہو سکتا ہے، لیکن عقائدِ اسلامیہ پر سودے بازی ہرگز قابل قبول نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بین المذاہب ہم ا ہنگی ابراہیمی مذہب اس معاہدے یہ معاہدہ تسلیم کر کیا گیا دیا گیا گیا ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل