UrduPoint:
2026-07-24@15:12:50 GMT

عالمی منڈی میں تیل سستا، پاکستان میں مہنگا ہورہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

عالمی منڈی میں تیل سستا، پاکستان میں مہنگا ہورہا ہے

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 جولائی2025ء)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ تیل و گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے عوام اورکاروباری برادری کی پریشانی میں اضافہ ہورہا ہے۔

بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافہ کے بعد تیل وگیس کی قیمتوں میں اضافہ پاکستانی معیشت اورعوام دونوں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ایران اوراسرائیل کے مابین حالیہ جنگ کے بعدعالمی سطح پرخام تیل کی قیمتوں میں نسبتا استحکام نظرآرہا ہے مگرپاکستان میں تیل وگیس کے نرخوں میں نمایاں اضافہ کئی سوالات کوجنم دیتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے توانائی کی قیمتوں کوآسان ہدف بنایا ہوا ہے اور پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا ہے، حالانکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گزشتہ مہینے 85 ڈالرفی بیرل سے کم ہوکر65 ڈالرکے آس پاس آچکی ہے۔

(جاری ہے)

عوام کو مہنگا ایندھن فراہم کرنا ایک غلط فیصلہ ہیجس کا خمیازہ عام شہری صنعت اورمعیشت کوبیک وقت بھگتنا پڑے گا کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور کاروباری لاگت بھی بڑھے گی انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پرپیٹرولیم مصنوعات پرلیوی میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ گیس کے شعبے میں چوری اور لائن لاسز پرقابوپانے کے بجائے صنعتی، کمرشل اورگھریلوصارفین پراضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

اس حکمت عملی کے تحت حکومت فوری ریونیوتو حاصل کرسکتی ہے مگریہ طویل المدت اقتصادی نموکو سست کرنے کا باعث بنے گی۔ میاں زاہد حسین نے نشاندہی کی کہ دنیا بھرمیں حکومتیں مہنگائی سے نمٹنے اورصنعتی بحالی کے لیے توانائی کی سبسڈی یا قیمتوں میں توازن رکھ رہی ہیں۔ پاکستان میں اس کے برعکس اشیائے صرف کی قیمتیں پیداواری لاگت اور ٹرانسپورٹ اخراجات بیک وقت بڑھ رہے ہیں جومعاشی دبا میں اضافہ کررہے ہیں۔

بھارت میں تقریبا ایک سال سے تیل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے جبکہ بنگلہ دیش میں تیل، ڈیزل، ہائی آکٹین اورمٹی کے تیل کی قیمتوں میں معتدد بارکمی کی گئی ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں قیمتیں بڑھانے کے بجائے اصلاحات کا نفاذ ناگزیر ہے۔ گردشی قرض اس وقت 2.

7 کھرب روپے سے تجاوزکرچکا ہے بجلی چوری کا تناسب 17 فیصد سے زائد ہے اورلائن لاسزبھی خطے کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہیں۔

ان مسائل کے حل کے بغیر قیمتوں میں اضافہ وقتی سہارا بنے گا مگر چوری اور بل نا دہندگی میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کوتیل اور گیس کی قیمتوں پرفیصلہ کرتے وقت عالمی رجحانات صارفین کی استطاعت اور صنعتی مشکلات کو مدنظر رکھنا چائیے۔ اگرصرف مالیاتی خسارہ پورا کرنے کیلئے قیمتیں بڑھائی گئیں تواس سے غربت بے روزگاری اور کاروباری بندش میں اضافہ ہوگا۔ میاں زاہد حسین نے حکومت پرزوردیا کہ وہ پالیسی سازی میں شفافیت، مشاورت اور حقیقت پسندی کواپنائے تاکہ توانائی کے شعبے میں حقیقی بہتری ممکن ہو بصورت دیگرمہنگی توانائی پاکستان کی معاشی بحالی کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ بنی رہے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میاں زاہد حسین نے کی قیمتوں میں میں اضافہ تیل کی

پڑھیں:

عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی

لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔

ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی