راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی،آزادکشمیر میں حکومت کی تبدیلی پر مسلم لیگ ن کی مشاورت مکمل  ہو گئی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ نئے وزیراعظم کیلئے پیپلزپارٹی کو ووٹ دینے سے مسلم لیگ ن نے انکار کردیا،حکومت کی تبدیلی کیلئے مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کا ساتھ دے گی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد الگ معاملہ ہے، قائدایوان کا انتخاب الگ معاملہ ہے،قائد ایوان کے انتخاب کیلئے ن لیگ نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیپلزپارٹی سے آزادکشمیر میں جلد الیکشن سے متعلق مشاورت ہوگی،سیاسی رابطہ کمیٹی نے آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی کو پیپلزپارٹی سے طے فارمولے پر اعتماد میں لیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن آزادکشمیر میں نئی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی جانب سے آئندہ کی سیاسی حکمت عملی پر بھی غور کیاگیا،سیاسی رابطہ کمیٹی آزادکشمیر کی قیادت سے سیاسی حکمت عملی سے متعلق تجاویز مانگ لی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ کمیٹی وزیراعظم شہبازشریف کووطن واپسی پر بریفنگ دے گی،اجلاس میں احسن اقبال، رانا ثنا اللہ اور وزیرامور کشمیر انجینئر امیر مقام شریک تھے،مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے صدرشاہ غلام قادر، راجہ فاروق حیدر سمیت اراکین پارلیمانی پارٹی شریک ہوئے،آزادکشمیر کی پارلیمانی پارٹی سمیت مرکزی عہدیداران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

صلح کریں یا بیرون ملک بھاگ جائیں، پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشن شروع، ویڈیو

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ا زادکشمیر کی مسلم لیگ ن

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار