لاہور:

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مطالبے سے پہلے ہی نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں حصہ دینا چاہیے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے کہا کہ انتخابات کے لیے بہترین امیدواروں کا انتخاب کرنا چاہیے، ہمارے پکے ساتھیوں کو انتخابات کے لیے میرٹ پر ٹکٹ دیا جائے، اس میرٹ کو نافذ کرنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے پارٹی کے فیصلے میرٹ پر ہونے چاہیے اور اس پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہیے، مقامی سطح پر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جھگڑے ہیں وہ بڑی بدنصیبی ہے، پارٹی اسی وجہ سے بہت ساری سیٹیں گنوا دیتی ہے، اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر کوئی اندرونی لڑائی میں ملوث ہے تو اس کو باہر رکھا جائے، اس کو درمیان میں لا کر اپنے سارے معاملات خراب نہیں کرنے ہیں، یہ ہمارا اصولی فیصلے ہے، اس کو کسی قیمت برداشت نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فضا اچھی ہے پارٹی کو اس کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے، اس فضا کو دیکھ کر بہت سارے لوگ ٹکٹ کے لیے آئیں گے لیکن ہمیں اپنے اور پرائے کی پہچان رکھنی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کا مطالبہ بجائے گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر سے آئے وفاقی حکومت کو خود کرنا چاہیے، میں وزیراعظم سے بات کروں گا، لیکن ان صوبوں میں ہم نے جو سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہ این ایف سی سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت سکردو ہائی وے میں 50 ارب سے زیادہ خرچہ آیا اور ایف ڈبلیو او کو کام سونپا تھا اور ان کا تخمینہ تھا کہ 50 سے 60 ارب کے درمیان خرچہ آئے گا غالباً 53 ارب خرچ کیا ہے، اگر این ایف سی سے فنڈ آتا وہ بھی اتنا نہیں ہوتا جو ہم پہلے ہی خرچ کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم دونوں صوبوں کے فنڈز وہاں کے حقوق کے مطابق ملنے چاہئیں، اس کے علاوہ وفاقی حکومت اپنی مرضی سے خرچ کرنا چاہے تو کریں لیکن یہ بات بھی ضروری ہے کہ کیا صوبوں میں اتنا پیسہ خرچ کرنے کی صلاحیت ہے تو میں جانتا ہوں نہیں ہے، نہ آزاد کشمیر اور نہ ہی گلگت بلتستان میں گنجائش ہے، اگر وفاقی حکومت پیسے دے بھی دے تو وہاں خرچ نہیں ہوتے اور وہاں استعمال نہیں ہوتے ہیں، اس لیے صلاحیت اور گنجائش پیدا کرنا ضروری ہے۔

نواز شریف نے وفاقی وزیر احسن اقبال سے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو پارٹی کا یہ پیغام پہنچائیں اور شہباز شریف سے خود بھی بات کروں گا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو این ایف سی کے تحت فنڈز ملنے چاہئیں اور یہ کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے کہ فنڈز میں کمی یا زیادہ کرے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے فنڈنگ کی ہے لیکن ہر سال ان کے حق کے مطابق ایک مخصوص رقم ادا کی جانی چاہیے اور یہ کسی پر انفرادی طور پر نہیں چھوڑنا چاہیے، باقاعدہ بتانا چاہیے کہ اتنی رقم گلگت بلتستان اور اتنی رقم آزاد کشمیر کے لیے ہے۔

صد مسلم لیگ (ن) پارٹی ذمہ داران کو ہدایت کی کہ وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے ٹکٹس طلب کریں اور جب درخواستیں موصول ہوں تو میں خود مظفر آباد، گلگت یا سکردو جاؤں گا اور تمام امیدواروں سے ملوں گا اور گفتگو کرکے کسی نتیجے پر باآسانی پہنچ جائیں گے اور سیاسی حوالے سے معلومات مل جائیں گی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر آزاد کشمیر اور آزاد کشمیر کے نواز شریف نے وفاقی حکومت ایف سی نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 

گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن  جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔ 

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔

جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ

یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ  کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف