Daily Ausaf:
2026-07-24@13:41:58 GMT

اڑتے جہاز میں فیول ختم ۔۔ پھر کیا ہوا؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT

برلن(نیوز ڈیسک)جرمنی کی ایئرلائن Lufthansa A380 کا ایندھن ختم ہونے کے بعد پرواز کا رخ موڑ دیا گیا۔

لفتھانسا کے ایک سپر جمبو جیٹ کو میونخ سے واشنگٹن کے لیے اڑان بھرنے کے لیے بوسٹن میں ایک غیر متوقع اسٹاپ کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ سب کچھ ایندھن کی پریشانیوں کی وجہ سے ہوا جو امریکی فضائی حدود میں اچانک چکر لگانے سے پیدا ہوا۔

پرواز میونخ ہوائی اڈے (MUC) سے واشنگٹن ڈلس (IAD) کے ساتھ 30 جون 2025 کو اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی تو نیو انگلینڈ، شمال مشرقی امریکہ کی فضا میں اسے غیرمعمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

LiveATC کے مطابق، پائلٹ نے ریڈیو پر کہا کہ ہمارے پاس بنیادی فیول زیرو ہو رہا ہے۔

عملے کو توقع سے زیادہ لمبا راستہ تفویض کیا گیا تھا، اور اضافی فضائی میل ان کے ایندھن کے ذخائر کو ختم کر گیا۔

اس پریشانی کو دیکھتے ہوئے A380 کا رخ بوسٹن لوگن (BOS) کی طرف کیا گیا جہاں جہاز نے کسی ہنگامی صورتحال کے بغیر بحفاظت لینڈنگ کی۔

بنیادی وجہ؟ ATC نے تصدیق کی کہ ممکنہ طور پر مشرقی ساحل پر رش یا عارضی فضائی حدود کی وجہ سے”عام روٹنگ بند ہے”

Lufthansa کے فلائٹ آپریشنز، جو ایندھن کی حفاظت کے سخت پروٹوکول کی پیروی کرتے ہیں، اگر کم از کم ذخائر کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے تو اس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔

AviationA2Z کے مطابق، واپسی کی پرواز LH415 کو میونخ کے لیے منسوخ کر دیا گیا تھا، اور مسافروں کو یا تو دوبارہ بک کیا گیا تھا یا انہیں دوبارہ جگہ دی گئی تھی۔
مزیدپڑھیں:وادی نیلم کار حادثے میں جاں بحق افراد کی شناخت ہوگئی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا