کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی جانب سے پاکستان میں راشن پیکجز کی تقسیم کے تیسرے مرحلے کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر نے سال 2025 کے لیے پاکستان میں اپنے فوڈ سیکیورٹی سپورٹ پراجیکٹ کے تیسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
کنگ سلمان ریلیف سینٹر ملک کے 34 پسماندہ اضلاع میں 30 ہزار غذائی پیکجز تقسیم کرے گا جس سے 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: عالمی ادارہ صحت، پاکستان میں غذائی قلت کے شکار 80 ہزار بچوں کو علاج میں مدد دیگا
پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سعودی سفارت خانہ اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور کنگ سلمان ریلیف سینٹر پاکستان کے ڈائریکٹر عبداللہ البقمی نے شرکت کی۔
یہ اقدام اس منصوبے کے پہلے 2 کامیاب مراحل کی تکمیل کے بعد کیا جا رہا ہے جن کے دوران 5 ماہ کے عرصے میں بلوچستان، سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا ، گلگت بلتستان، اور آزاد جموں و کشمیر کے 61 اضلاع میں 60 ہزار فوڈ پیکجز تقسیم کیے گئے۔
اس فوڈ پیكج میں تمام تر ضروری اشیا خرونوش شامل ہیں۔ ایک فوڈ پیکج 95 كلوگرام پر مشتمل ہے جس میں 80 كلو آٹا، 5 كلو دال چنا، 5 لیٹر كوكنگ آئل اور 5 كلو چینی شامل ہے۔ یہ پیکجز ایک خاندان کو پورے مہینے کے لیے کفایت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں جو کہ کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی نگرانی اور مقامی حکومت کے تعاون سے تقسیم کیے جائیں گے۔
یہ بھیپڑھیے: گندم کی فی من قیمت 4 ہزار روپے مقرر کی جائے، لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر
اس منصوبہ کا مقصد غذائی عدم تحفظ کا تدارک، غذائی صحت میں بہتری، اور قدرتی آفات سے متاثرہ و پسماندہ طبقات کی مدد کرنا ہے۔ تقسیم کے لیے مستحق خاندانوں کی نشاندہی مقامی حکام کے ساتھ مل کر کی جائے گی تاکہ امداد درست حقداروں تک پہنچ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
FOOD SECURITY Pakistan خوراک راشن راشن تقسیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خوراک کنگ سلمان ریلیف سینٹر پاکستان میں کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔