—فائل فوٹو

مسلم لیگ ن نے خیبر پختون خوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کو چیلنج کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

مسلم لیگ نواز نے پشاور کی عدالت عالیہ میں مخصوص نشستوں کےحصول کے لیے درخواست دائر کردی۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ جے یو آئی (ف) کو 7 جنرل نشستوں پر 10 مخصوص نشستیں دی گئیں ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی بھی 7 نشستیں ہیں اور مسلم لیگ نواز کو 8 مخصوص نشستیں دی گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کا افتتاحی اجلاس، 116 نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

خیبر پختون خوا اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے پہلے بے نظمی دیکھنے میں آئی، ارکانِ اسمبلی کے اسمبلی ہال میں داخلے کے دوران دھکم پیل ہوئی ہے۔

ن لیگ نے 6 جنرل نشستیں جیتیں، بعد میں ایک آزاد ایم پی اے بھی شامل ہوا، مسلم لیگ ن کو 6 جنرل نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں دی گئیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں کا اعلامیہ کالعدم قراردیا جائے، عدالت مخصوص نشستوں کی دوبارہ تقسیم سے متعلق احکامات جاری کرے اور حتمی فیصلے تک مخصوص نشستوں پر حلف سے روکا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مخصوص نشستوں مسلم لیگ ن

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن