مسلم لیگ ن نے کےپی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کو چیلنج کردیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
مسلم لیگ ن نے خیبر پختون خوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کو چیلنج کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔
مسلم لیگ نواز نے پشاور کی عدالت عالیہ میں مخصوص نشستوں کےحصول کے لیے درخواست دائر کردی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ جے یو آئی (ف) کو 7 جنرل نشستوں پر 10 مخصوص نشستیں دی گئیں ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی بھی 7 نشستیں ہیں اور مسلم لیگ نواز کو 8 مخصوص نشستیں دی گئی ہیں۔
خیبر پختون خوا اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے پہلے بے نظمی دیکھنے میں آئی، ارکانِ اسمبلی کے اسمبلی ہال میں داخلے کے دوران دھکم پیل ہوئی ہے۔
ن لیگ نے 6 جنرل نشستیں جیتیں، بعد میں ایک آزاد ایم پی اے بھی شامل ہوا، مسلم لیگ ن کو 6 جنرل نشستوں کے تناسب سے مخصوص نشستیں دی گئیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستوں کا اعلامیہ کالعدم قراردیا جائے، عدالت مخصوص نشستوں کی دوبارہ تقسیم سے متعلق احکامات جاری کرے اور حتمی فیصلے تک مخصوص نشستوں پر حلف سے روکا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مخصوص نشستوں مسلم لیگ ن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔