جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج ڈیکلیئر
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج ڈیکلیئر WhatsAppFacebookTwitter 0 29 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس)
ٹرانسفر ججز کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی، صدر مملکت نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا سینیئر ترین جج ڈیکلیئر کر دیا۔
صدر مملکت نے جسٹس سرفراز ڈوگر سمیت دیگر 2 ججز کی ٹرانسفر بھی مستقل قرار دے دی۔
سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ ججز کی سینیارٹی کے تعین کا معاملہ صدر مملکت کو بھیجا تھا۔ صدر مملکت نے تعین کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی لسٹ جاری کر دی۔
سینیارٹی لسٹ کے مطابق ٹرانسفر ہونے والے جسٹس سرفراز ڈوگر سینیئر ترین جج ہوں گے۔ جسٹس خادم حسین سومرو 9 ویں نمبر پر جبکہ جسٹس آصف 11 ویں نمبر کے جج ہوں گے۔
ججز کی سینیارٹی کے تعین اور عارضی یا مستقل ٹرانسفر کا معاملہ صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
گزٹ نوٹیفکیشن 27 جون 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت کا بجلی بلوں میں شفافیت کے لیے بڑا اقدام، ’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ‘‘ اسمارٹ ایپ متعارف امریکا نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ شرائط مزید سخت کر دیں خیبرپختونخوا میں مزید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کا خدشہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری پاکستان اور چین میں 3.7 ارب ڈالر قرض کے معاہدے، زرمبادلہ ذخائر 12.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہائبرڈ نظام نے ملک کی پاسپورٹ اور کریڈٹ رینکنگ بہتر کی: خواجہ آصف نیتن یاہو کو جانے دیں، انہیں بڑے کام کرنے ہیں کرپشن اسکینڈل پر ٹرمپ ایک بار پھر اسرائیلی وزیراعظم کے حق میں بول پڑے بجلی صارفین کے لیے بڑی خوشخبری ،بجلی کے بلوں میں پی ٹی وی فیس کے ختم ہونے کا امکان
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر صدر مملکت کے لیے ججز کی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔