قومی اسمبلی میں کس کا راج؟ مخصوص نشستوں نے گیم بدل دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
قومی اسمبلی میں کس کا راج؟ مخصوص نشستوں نے گیم بدل دی WhatsAppFacebookTwitter 0 2 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن کے بعد قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی عددی پوزیشن واضح ہو گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں مجموعی ارکان کی تعداد 333 ہو چکی ہے۔
مسلم لیگ (ن) 123 نشستوں کے ساتھ ایوان میں سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی 74 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ سنی اتحاد کونسل کو 80 نشستیں ملی ہیں اور وہ ایوان میں ایک بڑی اپوزیشن قوت بن کر ابھری ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی 10 نشستیں ہیں۔
قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں سے تین نشستیں تاحال خالی ہیں، جن میں سے ایک نشست جمعیت علمائے اسلام کو جبکہ دو نشستیں مسلم لیگ (ن) کو دی جائیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقومی اسمبلی میں خواتین کی تین مخصوص نشستیں تاحال خالی قومی اسمبلی میں خواتین کی تین مخصوص نشستیں تاحال خالی حکومتِ پنجاب کا راولپنڈی کے عوام کو شاندار تحفہ، اڈیالہ پارک میں جدید ترقیاتی کام تیزی سے جاری الیکشن کمیشن نے قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستیں بحال کردیں خیبرپختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر کی مرمت میں 37 کروڑ کی مالی بے ضابطگی اسلام آباد پولیس کی کامیابی: ثنا یوسف قتل سمیت 15 ہائی پروفائل کیسز ریکارڈ مدت میں ٹریس سوات میں سیاحوں کو بروقت ریسکیو کیوں نہیں کیا گیا؟ پشاور ہائیکورٹCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔