اسلام آباد:

وفاقی حکومت نے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی مد میں سرکاری ملازمین کی رننگ بیسک تنخواہوں میں 10فیصد اضافے اور30فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس کے نوٹیفکیشنز جاری کر دیے ہیں۔

وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ گریڈ ایک تا 22 کے ڈی آر اے کے اہل سرکاری ملازمین کے لیے 30 فیصد ڈسپیرٹی ریڈکشن الاؤنس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، تنخواہوں میں اضافہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی مد میں کیا گیا ہے، 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی مد میں موجودہ بنیادی تنخواہ پر اضافہ ملے گا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2025 کو کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ سے جاری پہلے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت نے وفاقی حکومت کے سول ملازمین، مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، اور دفاعی اخراجات سے تنخواہ لینے والے سویلین اہلکاروں کے لیے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2025 کی منظوری دے دی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس اضافے سے وہ کنٹریکٹ ملازمین بھی مستفید ہوں گے جو بیسک پے اسکیلز پر معیاری شرائط و ضوابط کے تحت خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2025 کی رقم انکم ٹیکس قانون کے مطابق قابل ٹیکس ہوگی اس کے علاوہ یہ الاؤنس عام چھٹی یا ایل پی آر (لیو پرپریٹریشن ریزرو) کے دوران بھی دیا جائے گا تاہم غیر معمولی چھٹی کی صورت میں اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

یہ الاؤنس پنشن یا گریجویٹی کے حساب میں شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی ہاؤس رینٹ کی کٹوتی میں شمار کیا جائے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بیرون ملک تعیناتی یا ڈیپوٹیشن کے دوران یہ الاؤنس قابل اطلاق نہیں ہوگا تاہم بیرون ملک سے واپسی پر ملازمین کو یہ الاؤنس اس شرح اور مقدار کے مطابق دیا جائے گا جو ان کی اندرون ملک تعیناتی کے دوران ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ نوٹیفکیشن میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ بنیادی تنخواہ میں وہ ذاتی الاؤنس بھی شامل ہوگا جو سالانہ ترقی (انکریمنٹ) کے بعد موجودہ تنخواہ کے اسکیل کی زیادہ سے زیادہ حد سے تجاوز پر دیا جاتا ہے۔

وفاقی حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ ایڈہاک ریلیف الاؤنس سال 26-2025 کے لیے متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کے بجٹ میں سے ہی دیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے کوئی اضافی یا ضمنی گرانٹ جاری نہیں کی جائے گی۔

ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس

دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق صدرمملکت نے وفاقی حکومت کے گریڈ ایک تا 22 کے ان افسران و اہلکاروں کے لیے 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) کی منظوری دے دی ہے جو پہلے ہی یہ الاؤنس وصول کر رہے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ الاؤنس یکم جولائی 2025 سے مؤثر ہوگا اورملازمین کو 30 جون 2022 کی بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر دیا جائے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق یہ ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس انہی شرائط و ضوابط کے تحت جاری رکھا جائے گا جو اس سے قبل وزارتِ خزانہ کے مراسلہ نمبر F.

No.14(1)R-3/2021-69 مورخہ 23 فروری 2022 اور مراسلہ مورخہ 19 جولائی 2022 میں درج کی گئی تھیں۔

نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ ایسے ملازمین جو یکم جولائی 2022 یا اس کے بعد بھرتی ہوں گے ان کے لیے یہ الاؤنس 2017 کے متعلقہ پے اسکیل کی بنیاد پر قابلِ اطلاق ہوگا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کا مقصد وفاقی محکموں کے درمیان تنخواہوں کے فرق کو کم کرنا اور ملازمین کو بہتر مالی مراعات فراہم کرنا ہے تاہم جو ملازمین اسپیشل تنخواہ، ایگزیکٹو الاؤنس، اسپیشل ہے الاؤنس یا بنیادی تنخواہ کے برابر 100 فیصد الاؤنس لے رہے ہیں خواہ وہ کسی بھی مالی سال میں منجمد شدہ ہو ایسے ملازمین اس ڈسپیرٹی الاؤنس کے اہل نہیں ہونگے، صرف ان ملازمین کو ملے گا جو پہلے سے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ دو ڈسپیرٹی الاؤنس بتدریج 25 فیصد اور 15 فیصد ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی بجٹ میں گریڈ ایک تا 22 کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ آئین پاکستان میں مساوی حقوق سے متعلق دی گئی شق پر عمل درآمد کرتے ہوئے اہل سرکاری ملازمین کو 30 فیصد کی شرح سے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا اعلان کیا تھا جس پر سب عمل درآمد کیا گیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں نوٹیفکیشن کے مطابق نوٹیفکیشن میں بنیادی تنخواہ وفاقی حکومت دیا جائے گا ملازمین کو کیا گیا ہے یہ الاؤنس کے لیے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن