کراچی میں جلوس کیلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر پولیس، رینجرز اور رضا کاروں کی نفری تعینات کی گئی ہے، جلوس کے روٹ پر نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی فعال کر دیئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت ملک بھر میں 8 محرم الحرام کے موقع پر عزاداری کے سلسلے میں جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جلوس کی گزرگاہوں پر دکانیں اور مارکیٹیں سیل کردی گئی ہیں، جلوس میں شریک عزادار ماتم، زنجیر زنی اور سینہ کوبی کریں گے۔ لاہور میں 8 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ دربارِ حسین اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہو گیا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا شام کو امام بارگاہ بیت الرضا پرانی انار کلی پہنچ کر اختتام پذیر ہو گا۔ شبیہ ذوالجناح کا یہ جلوس اندرون موری گیٹ سے ہوتا ہوا کوچہ چراغاں سے گزرے گا، جلوس جامعہ رضویہ، بخاری چوک، لوہاری گیٹ سے ہوتا ہوا انار کلی پہنچے گا۔

جلوس کی برآمدگی سے قبل علماء و زاکرین نے مجلس عزاء سے خطاب کیا اور شہداء کربلا کے فضائل و مصائب بیان کئے، بعدازاں نوحہ خوانی کی گئی اور شبیہ ذوالجناح برآمد ہوا۔ جلوس کے راستوں پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، جلوس کے اطراف کی تمام گلیوں اور راستوں کو خار دار تاریں لگا کر بند کیا گیا ہے، اہل علاقہ اور امن کمیٹیوں کے ممبران سمیت پولیس کے اعلیٰ افسران بھی جلوس کے ہمراہ ہیں، عزاداروں کیلئے راستے میں پانی، شربت اور دودھ کی سبیلوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

ادھر پشاور شہر میں آج 8 محرم الحرام کے سلسلے میں 18 چھوٹے بڑے جلوس برآمد ہوئے ہیں، جلوسوں کے روایتی راستوں پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ جلوسوں کی نگرانی جدید ڈرون کیمروں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق پہلا جلوس امام بارگاہ سید نجف علی شاہ سے سہ پہر 3 بجے برآمد ہوا جبکہ دوسرا بڑا جلوس شام 4 بجے حسینیہ ہال پشاور صدر سے برآمد ہو گا۔

اس کے علاوہ جلوسِ شبیہ جھولا رات 8 بجے امام بارگاہ حسین محلہ مروی ہا سے برآمد ہوگا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اپنی منزل پر اختتام پذیر ہو گا۔پولیس اور سکیورٹی اداروں نے جلوسوں کے روٹس پر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے ہیں، داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ، واک تھرو گیٹس، بم ڈسپوزل سکواڈ کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ فُل مانیٹرنگ کے لیے ڈرون کیمرے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں 8 محرم الحرام کے موقع پر جامعہ المرتضیٰ جی نائن فور سے دوپہر ایک بجے مرکزی جلوس برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا جامعہ الصادق جی نائن ٹو پر اختتام پذیر ہو گا۔ جلوس کا روٹ جی نائن ون، پولیس کوارٹر اور سروس روڈ پر محیط ہو گا، اس دوران روہتاس روڈ (پولیس کوارٹر ٹرن)، طفیل نیازی روڈ (جی ٹین) اور خرم روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا جائے گا۔

انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متبادل راستے استعمال کریں اور جلوس کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ جلوس کیلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر پولیس، رینجرز اور رضا کاروں کی نفری تعینات کی گئی ہے، جلوس کے روٹ پر نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی فعال کر دیئے گئے ہیں۔

کراچی میں 8 محرم الحرام کا مرکزی جلوس ایک بجے نشتر پارک سے برآمد ہوا، مرکزی جلوس کی سکیورٹی کیلئے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا قدیمی امام بارگاہ 12 امام پر کچھ دیر قیام کریگا، علم پر پھولوں کی تبدیلی کے بعد جلوس حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پہنچے گا۔

پولیس حکام کے مطابق سندھ رینجرز اور پولیس کے دستے جلوس کے آگے چل رہے ہیں، جلوس کی گزرگاہوں کو کنٹینر رکھ کر سیل کر دیا گیا ہے۔ رینجرز اور پولیس کے سراغ رساں کتوں کی مدد سے گزرگاہوں کی سوپئنگ کی جائیگی، بم ڈسپوزل سکواڈ بھی جلوس کی گزرگاہوں پر سوئپنگ کرے گا۔

پولیس حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کلیئرنس کے بعد جلوس کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، سی ٹی ڈی سمیت دیگر اداروں کے اہلکار بھی جلوس کی نگرانی کیلئے تعینات کئے گئے ہیں۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول روم میں اے این پی آر کیمروں کی مدد سے جلوس کی نگرانی کی جا رہی ہے، ماہر نشانہ باز اہلکار بلند و بالا عمارتوں پر تعینات کردیئے گئے۔

شہر قائد میں پولیس حکام کی جانب سے آج 8 محرم الحرام کے جلوس کی سکیورٹی کے لیے راستوں میں آنے والی مارکیٹس اور دکانوں کو سرچنگ کے بعد سیل کر دیا گیا۔ جلوس کی گزر گاہوں میں آنے والے دیگر راستوں کو بھی کنٹینرز اور بڑی گاڑیاں کھڑی کر کے سیل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس کی جانب سے سیل کیے جانے والے راستوں پر بھی پولیس کی نفری کو تعینات کرتے ہوئے پابند کیا گیا ہے ان راستوں سے جلوس میں نہ تو کوئی شامل ہوگا اور نہ ہی جلوس میں سے کسی کو ان راستوں سے جانے دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سکیورٹی کے سخت انتظامات میں 8 محرم الحرام محرم الحرام کے انتظامات کیے امام بارگاہ مرکزی جلوس رینجرز اور پولیس حکام برآمد ہوا راستوں پر پولیس کے جلوس کی جلوس کے گئے ہیں گیا ہے سیل کر کے لیے کر دیا

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری

بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر  میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔

یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔

بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز  قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔

بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔

سی آر پی ایف  سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار