بھارت کے ساتھ لڑائی میں چین نے پاکستان کی براہ راست مدد کی، بھارتی جنرل
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 جولائی 2025ء) بھارتی فوج کے ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ چین نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ کے دوران اسلام آباد کو ''براہِ راست معلومات‘‘ فراہم کیں۔ سنگھ نے بھارت کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
جوہری طاقت کے حامل دونوں ممالک کے درمیان چار روز تک میزائل اور ڈرونز کے حملوں کے تبادلے کے ذریعے شدید لڑائی ہوئی تھی، جسے دہائیوں کی بدترین جھڑپ قرار دیا گیا۔ یہ جھڑپ رواں سال اپریل میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہندو سیاحوں پر حملے کے بعد شروع ہوئی، جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا تھا، تاہم اسلام آباد نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
(جاری ہے)
لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے نئی دہلی میں ایک دفاعی صنعت سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ''ہم نے دو محاذوں پر لڑائی لڑی: پاکستان سامنے تھا اور چین اسے ہر ممکن مدد فراہم کر رہا تھا۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کے درمیان بات چیت جاری تھی، تو پاکستانی افسر بھارتی دفاعی تیاریوں کے بارے میں تفصیلات سے باخبر تھے۔
''انہیں چین سے براہِ راست معلومات مل رہی تھیں۔‘‘تاہم سنگھ نے یہ واضح نہیں کیا کہ بھارت کو یہ معلومات کیسے حاصل ہوئیں۔اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
یاد رہے کہ 2020ء میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے، تاہم اکتوبر 2024ء میں افواج کی واپسی کے معاہدے کے بعد کشیدگی میں کچھ کمی آئی۔
بھارت ماضی میں یہ کہہ چکا ہے کہ اگرچہ پاکستان اور چین کے قریبی تعلقات ہیں لیکن لڑائی کے دوران بیجنگ کی جانب سے کوئی براہِ راست مدد کے شواہد موجود نہیں۔ تاہم بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر جیسی معلومات کمرشل طور پر دستیاب ہوتی ہیں اور ممکن ہے کہ پاکستان نے چین یا کسی اور ذریعے سے یہ حاصل کی ہوں۔
پاکستانی حکام بھی اس الزام کی تردید کر چکے ہیں کہ چین نے انہیں جھڑپ کے دوران فعال تعاون فراہم کیا تاہم انہوں نے سیٹلائٹ یا ریڈار مدد کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی۔
بیجنگ نے مئی میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا تھا اور 2013 ء سے پاکستان کی معیشت کو مختلف سرمایہ کاریوں اور مالی امداد سے سہارا دے رہا ہے۔ جنگ بندی کے بعد چینی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات میں پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں مکمل حمایت کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
جنرل سنگھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ترکی نے بھی پاکستان کو جنگ کے دوران اہم مدد فراہم کی، جس میں معروف ترک ساختہ ڈرون بیرکتار اور دیگر دفاعی سازوسامان شامل تھا۔
ان کے مطابق ترکی نے تربیت یافتہ افراد بھی فراہم کیے۔ واضح رہے کہ ترکی اور پاکستان کے قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان اور بھارت کے درمیان جھڑپوں کے دوران انقرہ نے اسلام آباد سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا، جس کے ردعمل میں بھارت میں ترک مصنوعات اور سیاحت کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی تھی۔ترکی کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کے لیے روئٹرز کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
شکور رحیم روئٹرز کے ساتھ
ادارت: رابعہ بگٹی
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان اور اسلام آباد کے درمیان بھارت کے فراہم کی سنگھ نے کے بعد
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔