ٹرین سے سفر کرنے والے مسافروں کے لیے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں ٹرین سے سفر کرنے والے مسافروں کے لیے اہم خبر آگئی۔
نجی ٹی وی کے مطابق ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ میرپور ماتھیلو مال گاڑی حادثے کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت میں 14 گھنٹوں تک کی تاخیر ہوئی ہے۔
گرین لائن 10 گھنٹے تاخیر سے کراچی کینٹ پہنچے گی، پشاور سے آنے والی عوام ایکسپریس 10 گھنٹے اور رحمان بابا ایکسپریس 4 گھنٹے تاخیر سے کراچی آئے گی۔
لاہور سے آنے والی کراچی ایکسپریس 12 گھنٹے بزنس ایکسپریس 14 گھنٹے تاخیر سے پہنچے گی۔
ریلوے حکام کے مطابق سرگودھا سے آنے والی ملت ایکسپریس 12 گھنٹے تاخیر سے رات 12 بجے کراچی پہنچے گی، لاہور سے آنے والی فرید ایکسپریس 13 گھنٹے، قراقرم ایکسپریس 13 گھنٹے تاخیر سے آئے گی۔
کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے والی شاہ حسین کو منسوخ کردیا گیا ہے، 6 گھنٹے سے زائد تاخیر پر مسافروں کو ٹکٹ کی پوری رقم واپس کی جائے گی۔
ڈی ایس ریلوے کا کہنا ہے کہ ریفنڈ کے لیے اضافی کاؤنٹرز قائم کردیے گئے ہیں، حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر بھی افسران رات میں موجود رہیں گے۔
مزیدپڑھیں:بسکٹ نے خاتون کو 50 ہزار ڈالرز جتوا دیے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گھنٹے تاخیر سے سے ا نے والی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔