محکمے روڈ میپ پر عملدرآمد کیلئے عملی اقدامات کریں، منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر نہ کی جائے: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
پشا ور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ تمام محکمے روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات اُٹھائیں، عوامی منصوبوں کی تکمیل میں کوئی تاخیر نہ کی جائے، روڈ میپ پر عملدرآمد کرنے میں کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
ڈان نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے روڈ میپ تقریب سے خطاب میں کہاکہ خراب گورننس کے باعث کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوگا، میں نے وزیر اعلی بنتے ہی سکولوں میں فرنیچر پورا کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سکولوں میں فرنیچر پورا نہ ہونے کی بڑی وجہ خراب گورننس ہے، سرکاری ملازمین کے گھروں میں سرکاری فرنیچر پڑا ہے، سکولوں کی کرسیاں سیاسی جلسوں میں استعمال ہوتی ہے، اب ذمہ داروں پر ذمہ داری عائد کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ روڈ میپ منصوبے میں سزا اور جزا کا عمل ہوگا، روڈ میپ کی ہر مہینے نگرانی کروں گا،خراب کارکردگی پر کسی کو ہٹانے میں پھر صفائیاں نہیں دوں گا۔
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ کسی کو ہٹاؤں تو صفائیاں دینی پڑتی ہے، اب روڈ میپ میں ہر کسی کی کارکردگی نمایاں ہوگی،کسی کی سفارش نہیں مانوں گا، خراب کارکردگی والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔
خیبرپختونخوا حکومت کے روڈ میپ تقریب سے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے خطاب میں کہاکہ جہاں پر سیکورٹی سسٹم پر سمجھوتا ہوتا ہے تو عوام متاثر ہوتے ہیں، دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے تمام اداروں کو اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی صوبے کی ترقی پر اثر انداز ہورہی ہے، جس ادارے کا جتنا اختیار ہےاس کے مطابق دہشتگردی کےخاتمہ میں کردارادا کریں، خیبرپختونخوا حکومت نے اگلے دو سال کے لئے روڈ میپ جاری کردیا ہے، تقرریاں تبادلے کارکردگی بنیاد پر ہونگے۔
چیف سیکرٹری نے کہا کہ پراونشل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہوگا اور منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز جاری ہوں گے، روڈ میپ میں بروقت ٹاسک پورا کرنے والے اہلکار و محکمے کو انعام دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات کی سو فیصد فراہمی، 250 بنیادی صحت مراکز کو اپ گریڈ کیا جائے گا، حکومت روڈ میپ کے تحت دس ہزار خصوصی افراد کو وظائف دے گی، سکول سے باہر بچوں کی تعداد میں پچاس فیصد کمی لائی جائے گی۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایک ہزار پھلدار، بیس لاکھ جنگلی زیتون کی قلم جاری کی جائے گی، نیو پشاور ویلی میں 14 ہزار رہائشی پلاٹس تیار کیے جائیں گے، اور ایک لاکھ روپے سے کم آمدنی والے گھرانوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن کے ایم ایس کیخلاف سخت ایکشن، گرفتار کرنے کا حکم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نے کہا کہ علی امین روڈ میپ کی جائے
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔