کراچی کے قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) میں بین الاقوامی معیار کا کلینیکل ٹرائلز یونٹ قائم کیا جا رہا ہے.

تفصیلات کے مطابق یہ یونٹ نہ صرف تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دے گا بلکہ غیر ملکی فنڈنگ کے حصول میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ یہ یونٹ اسپتال کی بالائی منزل پر قائم کیا جائے گا جو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے متعین کردہ اصولوں کے مطابق مکمل ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی این آئی سی وی ڈی کی پرانی او پی ڈی کی عمارت کی بالائی منزل پر کلینیکل ٹرائلز یونٹ قائم کیا جائے گا، جہاں بین الاقوامی معیار کے مطابق ریسرچ کی جاسکیں گی،ماضی میں بچوں کو امراض قلب کے علاج کے لیئے پڑوسی ممالک سے علاج کروانا پڑتا تھا،جو مالی طور پر ایک بڑا مسئلہ تھا،اس ریسرچ یونٹ کے ذریعے علاج کے معیار کی بہتری اور نئی تحقیق پر کام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ سول سوسائٹی کے تعاون سے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (بی او ٹی) کے ماڈل پر مکمل کیا جائے گا۔ یہ یونٹ نجی کمپنی کی جانب سے تیار کرکے ہمارے حوالے کیا جائے گا جس میں ہمارا کردار مانیٹرنگ کا ہوگا جبکہ کلینکل ٹرائلز یونٹ کے ساتھ یہاں کانفرنس ہال اور لائبریری بھی تیار کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسپتال میں ایک نئی او پی ڈی تعمیر کی جا رہی ہے جو رواں سال اکتوبر یا نومبر تک فعال ہو جائے گی، جس کا داخلی راستہ اسپتال سے باہر ہوگا تاکہ اسپتال پر دباؤ کم ہو۔ نئی او پی ڈی کا تخمینہ سوا ارب روپے ہے۔

پروفیسر طاہر صغیر کا کہنا تھا کہ کلینیکل ٹرائلز یونٹ کے ساتھ ساتھ نئی او پی ڈی اور ایمرجنسی کی توسیع کے منصوبے بھی سول سوسائٹی کے تعاون سے بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (بی او ٹی) کے ماڈل پر مکمل کیے جا رہے ہیں۔  این آئی سی وی ڈی میں پیڈیاٹرک بلاک کا پہلا مرحلہ رواں سال نومبر تک جزوی طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس مرحلے میں بچوں کے لیے مخصوص ایمرجنسی، وارڈ اور آئی سی یو کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اسی دوران ادارے کی نئی او پی ڈی بھی فعال ہو جائے گی، جبکہ پرانی او پی ڈی کی جگہ ایمرجنسی وارڈ کو وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ کشیدگی کے باعث وفاق کی جانب سے بجٹ کم ملنے کے باوجود سندھ حکومت نے پیڈیاٹرک بلاک کے لیے 2.

5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم سے اسپتال میں زیر تعمیر پیڈیاٹرک بلاک کے دو انڈر گراؤنڈ اور دو فلورز مکمل کیے جائیں گے، جس میں خصوصی طور پر بچوں کے لیئے ایمرجنسی، ایک وارڈ اور آئی سی یو ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال بچوں کے لیے صرف ایک وارڈ ہے جہاں ایک بیڈ پر تین بچے لیٹنے پر مجبور ہیں۔ کیتھ لیب اور سرجری بھی بالغ مریضوں کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے، جہاں صرف دو آپریشن تھیٹرز بچوں کے لیئے موجود ہیں۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں این آئی سی وی ڈی میں ان منصوبوں کے سبب مثبت تبدیلیاں نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئی سی وی ڈی انہوں نے کہا کہ نئی او پی ڈی کیا جائے گا جائے گی کے ساتھ بچوں کے کیا جا

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق